چلیں آج صرف اور صرف سچ بولنے کا پکا اور مصمم ارادہ کر کے سچ بولیں ۔خود سے بھی اور اگلوں سے بھی ۔تو اگر آپ اپنے ہر مسلۓ کا دائمی اور یقینی آسان حل چاہتے ہیں تو صرف یہی ایک کام کریں ۔سچ بولیں ۔۔۔پھر آپ کو نا کسی سیلف ہیلپ کی ضرورت ہو گی نا ہی کسی کونسلنگ کی حاجت باقی رہے گی ۔سچ ایک ونر ہے ۔کیسے ؟ سچ فارمولا ہر پرابلم پر اپلائی کریں ۔اگر آپ کا کیرئیر نہیں بنا یا محبت ناکام ہو گیئی یا صحت ایشو ہے ، اگر آپ کو ذہنی سکون نہیں، کوئی بھی مسلہ ہے اس پر ایک مرتبہ سچ کھول کر پھرول کر اپنی غلطی دیکھیں ۔اپنے جج خود بن کر دیکھیں ۔تو محبت میں ناکامی کی وجہہ سمجھ آ جاۓ گی ۔شاید آپ کو اس بندی یا بندے سے محبت ہے ہی نہیں ۔یہ بس ایک تمنا ہے ۔اور اگر محبت ہے تو زندگی جیسی قیمتی شے ایک جذباتی ہیجان انگیز جذبے میں لگا دینا کہاں کی دانش مندی ہے ؟ میں کبھی محبت میں کسی کے آگے نہیں بچھا ۔جب کبھی رومانوی شاعری کرتا ہوں تو وہ صرف شاعری کی حد تک ہے ۔میری انا مونٹ ایورسٹ سے بھی اونچی ہے ۔جسے آپ سے سچی محبت ہوتی ہے وہ آپ کی انا کو کبھی ٹھیس نہیں پہنچا سکتی یا سکتا ۔باقی جو آپ کی تذلیل کی کوشش کرے تو کنارہ کشی بہترین عمل ہے ۔بھاڑ میں جا

0
15
   آج کا موضوع ۔محبت بھی کتنی عجیب شے ہوتی ہے؟ ،پیارے دینی بہن بھائیوں ۔السلام و علیکم و رحمتہ اللہ و بر کا تہ! امید کرتی ہوں کہ آپ سب خیریت سے ہونگے ،اللہ تعالی آپ سب کو اپنی ایمان میں رکھے اور اپنے کرم سے آپ سب کی تمام مشکلات اور پریشانیاں دور فرمائے آمین یا رب ۔پیارے دینی دوستو ۔ ایک بار پھر سے آپکی بہن صباء آپ لوگوں کے ساتھ ایک نئے اور منفرد موضوع کے ساتھ حاضر ہوئی ہوں ۔امید کرتی ہوں کہ آج کا موضوع آپ سب کو بہت پسند آئے گا اور آج کے اس نئے موضوع سے آپ سب کو سیکھنے کو بہت کچھ ملے گا ۔ ان شاء اللہ ۔تو موضوع شروع کرنے سے پہلے آپ سب سے گزارش کرتی ہوں کہ آپ آخر میں اپنی قیمتی رائے سے ضرور آگاہ کریں تاکہ آئندہ آپ سب کو میرے نئے نئے موضوعات سے واقفیت ہو سکے ۔چلیے آئیے اپنے موضوع کی جانب قدم بڑھاتے ہیں؟ آج میں نے بہت سوچ بچار کے بعد یہ موضوع چنا ہے ۔ سوچا نوجوانوں کی توجہ اس طرف مرکوز کی جائے ۔ دوستو! محبت ایک ایسا جذبہ ہے، جس کی ضرورت عمر بھر رہتی ہے ۔ محبت کے بغیر انسان کی زندگی نامکمل اور ادھوری ہے ۔ اور اگر یہ کسی محبوب سے ہو جائے تو یہ جذبہ لازوال بن جاتا ہے ۔ جب یہ محبت ایک مرد اور عورت

0
27

0
6
سوچ اگر باہر آ جائے اگر ہم دل کے خیالات جان لیں ایک دوسرے کے تو اپنے ہوش کھو بیٹھے کیونکہ اکثریت نے برائی کو جگہ دی رکھی ہے نفرت کو بغض کو کینہ کو یہ تو خدا کا ظرف ہے وہ سب جانتا ہے اور خاموش رہتا ہے ۔ دلوں کے حال تو اللہ جانتا ہے۔اور وہی ذات ہے جو یہ جاننے کا حق رکھتی ہے ہر شخص میں برائیاں ہوتی ہیں اور کیا پتہ آپ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہوں جن کی اچھائی برائی پہ حاوی رہتی ہے۔💞

0
12
"صرف کوئی ایک شخص جذبات کا محور کیسے ہو سکتا ہے"منچلے دوست! تمہاری کم عقلی پہ رونا آیا۔ تمہارا یہ کہنا "دوسرا آپشن ہو، تین چار لوگ تو ہوں کم از کم"بنام ص۔ح

0
9
پہلے روح کو پیدا کیا گیا اور پھر روح کے سانچے کے مطابق انسان کا جسم بنایا گیا اور پھر اس میں وہ روح ڈالی گئی۔روح سمجھیے نا کہ روح ہے کیا روح تو اللہ کا حکم ہے  اللہ کا حکم وقت مقررہ تک جسم میں موجود رہتا ہے۔اگر صرف جسم کو اتارا جاتا تو اس حیات کا مقصد ہی کیا ہونا تھا یہ حیات تو امتحان ہے کہ اللہ کے احکام پورے کرو

0
7
اس قوم کے باب حکمرانی میں ایک دور مشرف کا دور ۔۔۔ تقریباً پندرہ برس قبل۔ایک ایسا دور جس میں Raymond Devis جیسا دشمن ہاتھ آنے کے باوجود رہا ہو کے واپس چلا جاتا ہے۔ Raymond Devis ایک ایسا ملک دشمن ایجنٹ جو بلوچستان کو تباہ و برباد کرنے کے اراداہ سے آیا تھا۔ جو موساد، ایم نائن  اور سی آئی اے کا مہرہ تھا۔ قوم چیختی رہی، چلاتی رہی، اپنا درد، اپنی آہ اور نالاں نارسا بلند کرتے کرتے ٹوٹ کر بکھر گئی کہ Raymond Devis کو واپس نہ کیا جائے۔ مگر امریکہ کے غلام حکمرانوں نے رات کے اندھیرے میں دنیاوی قوت کے حامل امریکہ( جسے وہ دیوتا مانتے تھے) کے  حوالے کیا کہ یہ قوم اپنے جذبات میں ان دو ٹکے کے اشاروں پہ ناچنے والے غلام حکمرانوں کے لیے خطرہ نہ بنے۔ آج پندرہ برس بعد، اسی سر زمین پہ ایک دشمن ایجنٹ کو رہا کرنے کا فیصلہ ہوا۔ ایک ایسے ملک کا ایجنٹ جس کے ساتھ قیام مملکت سے ہی نہ صرف دشمنی رہی بلکہ چار جنگیں پہ لڑی جا چکی۔ ایک ایسا جو بلوچستان کو خانہ جنگی کا مرکز بنا کے ملک کو دہشت گردی میں جھونکنے آیا تھا۔ پندرہ برس کے اندر یہ قوم، ملت ، ریاست اتنی بکھر گئی کہ آج یہ ازلی دشمن کے آگے جھک گئی۔آج یہ

0
8
غرناطہ سقوط غرناطہ وہ سیاہ باب وہ کرب وہ احساس میں وہاں نہیں تھا۔ غرناطہ پہ لٹیروں نہ میرے پیدا ہونے 5 یا 6 سو سال پہلے قبضہ کیا۔ مگر آج بھی سقوط غرناطہ کا خیال آتا ہے تو دل چیخ اٹھتا ہے۔ اور پھر احساسات کا تسلسل جب بنگلہ دیش تک پہنچتا ہے تو روح کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔آج عیسائی ریاستوں کی فلاح کی بات کرنے والے ظالمو!تاریخ پڑھ لو ۔عیسائیت کی نرم دلی اور منظم پن کی دلیلیں دینے والوایک دفعہ بس ایک اندھیری رات کے مسافر پڑھ لونسیم حجازی کی کتاب کلیسا اور آگ کا مطالعہ کر لو۔اگر تم چیخ نہ اٹھو، اگر تمہارے جسم تھرتھرا نہ جائیں۔ اگر تہماری روح کانپ نہ جائے۔تو اپنی ضمیر کی خبر لینا۔ اگر تاریخ کے ان حقائق کو جان لینے کے بعد بھی تمہاری آنکھیں نہ کھلیں ، تمہارے جذبات تمہیں پر سکون رہنے دیں ۔ تو اس بات کا یقین کر لینا کہ تم مردوں سسے بد تر ہو۔ تمہارے ضمیر کب کے مر چکے ہیں۔ تمہاری انسانیت کا قلعہ قمع ہو چکا ہے۔ کیوں آخر سبق نہیں لے رہے ہم تاریخ سے۔ سقوط غرناطہ سے تاریخ کے اندوہناک باب کا آغاز ہوا ۔ وقت دوڑتا گیا۔ یہ.قوم ۔ یہ ملت اپنے ضمیر کھو رہی۔ سقوط بغداد ہوا۔ اس قوم میں شعور کی چمک

0
5
خودی خود شناسی کا وہ مقام ہے جہاں کوئی شخص اپنی سب سے اعلیٰ و ارفع پرفارمنس سے دنیا کو منور کر سکتا ہےخودی وہ معراج ہے جس کے بعد انسان وقت، حالات اور جگہ کی بندشوں سے ماورا ہو جاتا ہے💖

0
5
مسکراہٹآج میری ملاقات ایک برخوردار سے ہوئی۔ وہ امتحان گاہ کے دروازے پہ اترے تو دروازے کی جانب دیکھ کے مسکرانے لگے۔ پھر تھوڑا سنجیدہ ہوئے اور اندر داخل ہوئے۔ اندر داخل ہوتے ہی بے اختیار مسلسل مسکرانے لگے۔ خود ہی خود مسکرا رہے تھے۔ ایسے تھا جیسے وہاں ان کا کوئی شناسا نہ ہو اور انہیں کسی کی موجودگی کا پتہ نہ ہو۔ امتحان کے ہال میں داخل ہوئے تو مسکرانے لگے۔ ممتحن نے موبائل پہ اعتراض کیا تو رائٹنگ میز پہ موبائل آف کرکے رکھتے ہوئے ممتحن کو دیکھے گئے اور ایسے مسکراتے رہے کہ ممتحن کشمکش کا شکار ہو گیا۔ جوابی کاپی دی گئی تو ہدایات پڑھے بغیر پہلا صفحہ فِل کیا۔ جس میں رسم الخط کی غلطی ہوگئی۔ جب غلطی معلوم ہوئی تو بے اختیار مسکرانے لگے۔ قریب ایک امتحان گزار بہت فرساں نظر آ رہا تھا اس کی حالت دیکھ کے وہ مسکرا دیئے جیسے کہ محظوظ ہوئے ہوں۔ مسکراتے ہوئے اپنے ہاتھ مسلے تو اندازہ ہوا، ہاتھ پسینہ ، پسینہ ہیں۔ اپنی حالت کا یہ اندازہ ہوتے ہی وہ زندہ دلی سے مسکرائے۔ ایک خاتون کو اپنی مطلوبہ جگہ نہیں مل رہی تھی۔ وہ طائرانہ نظر سے اُسے دیکھے گئے۔ طبیعت کے برعکس مسلسل اسے دیکھنے لگے۔محترمہ نے ہر ایک سیٹ چ

0
6
Life is just to judge you that whether you follow the way straight.It's not more than the measurements. So give back the positive perception to the world. So, great responses can recorded

0
8
امانت وہ مقدس احکام ہیں جو روح، جسم، فلسفہ اور دل کے تمام امور کا حل پیش کرتے ہیں۔وہ مقدس کتاب جو آئین حیات ہے۔ جس میں انسانیت کی فلاح کا نظام ہے۔ کاش میری زندگی، اس مقدس امانت کے ایک چھوٹے سے حکم کی تکمیل میں کام آجائے۔لیکن افسوس میں کردار نہیں. گفتار ہوں میں بے عمل شخص ہوں۔دعا ہے کہ باعمل ہو جاؤں

0
9
منزلیں حسین ہوں تو کانٹوں بھرا رستہ بھی خاموشی سےکٹتا ہے😍

0
6

0
9

0
14
سب غور سے سنیں خصوصا لڑکیاں ! ویسے تو پوری زندگی احتیاط کے ساتھ گزارنی چاہیے لیکن 15 سے 25 سال کی عمر تک خدا کے لئے بہت ہی احتیاط کے ساتھ زندگی گزارا کریں۔یہ وقت بہت نازک ترین اور فتنوں کے زمانے والا وقت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس دورانیے میں انسان خود اپنے جسم میں ایک عجیب سی تبدیلی کے ساتھ ساتھ فطری طور پر اپنی سوچ و فکر میں بھی تبدیلی محسوس کر رہا ہوتا ہے۔پھر اگر خدانخواستہ بے احتیاطی کی بنا پر انسان سے کوئی گناہ یا غلطی سرزد ہو جاتی ہے تو اللہ تو انسان کی ندامت کے بعد معاف کر دیتا ہے لیکن لوگ کبھی معاف نہیں کرتے۔آپ جتنی بھی توبہ کر لیں یا آپ کی توبہ کی گواہی کے لئے بالفرض آسمان سے کوئی فرشتہ بھی اتر آئے تو بھی آپ سے جلنے والے لوگ کبھی آپ کو معاف نہیں کریں گے اور آپ کی برائی کو زندگی بھر دوسروں کے سامنے بیان کر کر کے مزے لیتے رہتے ہیں ۔آپ بعد میں بھلے سو فیصد تقوی والی حالت کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوں گے پھر بھی آپ سے جلنے والے لوگ آپ کو تکلیف پہنچانے کے لیے دوسروں کو آپ کے گناہ کو بتا بتا کر آپ کے روح کو زخمی کرتے رہیں گے۔ اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ماں باپ دوسروں کے سامنے تو آپ کا ساتھ دیں گے آپ کی

0
20
ہمیں سے محبت ہمیں سے خفا ہو ,یہ لازم ہے تمکو کہ تم معجزہ ہو مرے دردِ دل کی انوکھی دوا ہو نشہ ہی نشہ ہو مزہ ہی مزہ ہو نہیں کوئی ایسا ستمگر جہاں میں ستم اور ستم ہی کِئے جا رہا ہو ہے محبوب میرا کچھ ایسی صفت کا جفا بھی کرے تو وفا لگ رہا ہو کہیں آگ بن کے یہ شعلہ نہ بھڑکے کہیں مجھ سے ایسی نہ کوئی خطا ہو اب ان آنسؤں نے بھی یہ کہہ دیا ہے بڑے بے وفا تم بڑے بے وفا ہو

1
29

0
16

0
15
یا۔            رحمۃللعالمین       امت  ہوئی لا چار ہےہر آن   اس   پر  آفتوں      کا ہو رہا اک وار ہےبگڑے ہوئے ہیں جوش طوفانی میں رخ دریاؤں کےاے   نوح   کے   مولا  کرم  کردے تو بیڑا پار ہےمیرے   گنہ   سب درگزر فرمائیں گے میرے نبیمیرے شفیع تو   آپ    ہیں  میرا سفینہ پار ہے ہم عَاصیوں کی ہے نظر تیرے ہی دستِ کرم پربہرِ     خدا     امداد     کُن       تیرا   سخی دربار ہےآقا        عتیقِ        بے  نوا       کی  گور    چمکا دیجئے آنا   خرامِ     ناز    سے    ہاں گور کی شب تار ہے

25
یا رحمۃللعالمین   تری   امت  ہوئی لا چار ہےہر آن   اس   پر  آفتوں      کا ہو رہا اک وار ہےبگڑے ہوئے ہیں جوش طوفانی میں رخ دریاؤں کےاے   نوح   کے   مولا  کرم  کردے تو بیڑا پار ہےمیرے   گنہ   سب درگزر فرمائیں گے میرے نبیمیرے شفیع تو   آپ    ہیں  میرا سفینہ پار ہے ہم عَاصیوں کی ہے نظر تیرے ہی دستِ کرم پربہرِ     خدا     امداد     کُن       تیرا   سخی دربار ہےآقا        عتیقِ        بے  نوا       کی  گور    چمکا دیجئے آنا   خرامِ     ناز    سے    ہاں گور کی شب تار ہے

13

0
19

0
23

0
13

0
16
لاہور لاہور ہے ...قسط نمبر دو  تبصرہ آن لاہور آوارگی ۔مستنصر حسین تارڑچشم براہ ہوں معذرت خواہ کہ جب تارڑ اپنے حواریوں (جن کا تعارف بعد میں ) کے ہمراہ قدیم لاہور کی گلیوں ، کوچوں میں عہد رفتہ کو یاد کرنے اور یاد ماضی کو تازہ کرتے گزرتے ہیں - تو قاری ساتھ ساتھ سفر کرتا ہے -وہ  نیم پخت سوٹا لگاتے ہیں اور کش کا مزہ مجھے آتا ہے - پھجے کے پاۓ  وہ نوش جان کرتے ہیں اور لذت تراہٹ کے رسیلے چشمے  یہاں میری زبان پر پھوٹتے ہیں - لسی کو ایک ڈیک میں وہ ختم کرتے ہیں اور  سفید جھاگ سی بانچھیں میں یہاں محسوس کرتا ہوں - حلوہ پوڑی ادھر کھائی جاتی ہے اور خمار پوڑی یہاں چڑھتا ہے - یعنی  لازم و ملزوم ہیں قاری و تارڑ اور یہی انداز بیان تارڑ کا سب سے  شاندار  ادبی امتزاجی حسن ہے -لاہور کے قدیمی کوہے ہوں، تارڑ سا ادبی جادوگر بیان کر رہا ہو، تو حشر ہے ، سامان غدر ہے - ان کوچوں، محلوں اور گلیوں میں کبھی اس سے بات کرنا کبھی اس سے بات کرنا کی طرح حویلی نونہال سنگھ کی شان و شوکت کا تذکرہ کرتے ہیں - ابھی کھڑک سنگھ کی حویلی بھی منتظر نگاہ ہے - اگرچہ سکھوں کے دور کی حویلیاں آج بھی لائق تماشا خاص ہیں مگر

0
38
یہ فیس بک ٹرولرز کون ہوتے ہیں ؟ بڑے حرامی ہوتے ہیں ۔ ان کا کیا کام ہوتا ہے ؟ کتا کام ہوتا ہے ۔ یہ لوگ ہر پیج کی ہر پوسٹ پر منفی یا گھٹیا یا سرے سے ہٹ کر کمنٹس کرتے ہیں ۔ ان کو میں جراثیم سے بھی کم سمجھتا ہوں ۔ان کا جراثیم کش علاج ہے ۔ Ban and Delete  ہی ان کا اصل علاج ہے ۔ میں نے اب تک اپنے پیجز اور گروپس سے کوئی لاکھوں ٹرولرز کو ایسے کھڈیہڑ کر رکھا ہے کہ چس آ چکی ہے ۔ منفی لوگوں سے یا جاہل سے کبھی بحث نا کریں ۔ فیس بک پر ان کمینوں کو تو سیدھا بلاک یا بین کریں اور اصل زندگی میں اس محفل سے اٹھ جائیں یا ان کو دور سے ہی سلام کریں ۔ شکریہ 

0
21
کل قسمت شومئی تھی زحمت کے لمبے سائے تھے یونہی اورنج لائن جو میاں حکومت کا ایک خوبصورت تحفہ ہے تو اس پر سیر کا دل چاہا۔تو علی ٹاون اسٹیشن سے سفر کا ٹھنڈا آغاز کیا chiller اے سی نے بلکل چل کر دیا uet اترا اور شالا مار باغ کی طرف رخ کیا ۔ وہاں بیرونی دیوار کے ساتھ ایل ہاکر ڈائجسٹ فروخت کر رہا تھا میں نے جلتا سیگریٹ بھجایا اور اسے وقت گزاری کی خاطر خرید لیا ۔ مگر صاحب جونہی اسے کھولا مجھے 440 وولٹ کا جھٹکا سا لگا آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گیئیں پورس کا ہاتھی بھی ایسے بگٹٹ نا بھاگا ہو گا جیسے میرا بھاگنے کا من ہوا ۔۔۔حلق خشک ہو چکا تھا کیوں کہ سامنے وہ تھی ۔۔۔جی ہاں وہی ۔۔۔یعنی میری پسندیدہ مصنفہ عمرہ احمد ۔۔۔۔پیر کامل سے مات کیا کیا اچھے ناول انھوں نے لکھے تو اس سمے من باغ باغ ہو کر شالا مار باغ ہو گیا۔ چند صفحات پڑھے پھر سوچا عمیرہ احمد کی کہانی آرام سے پڑھنی چاہیے تو اس دوران میں  ٹکٹ لیکر باغ میں شاہ جہاں کے اس خوبصورت گارڈن میں پرویش کر چکا تھا ایک رومانوی درخت کے نیچے ریڈ بل اور گولڈ لیف کے کش لگاتا چھاؤں میں سکون سے اگلے صفحے پلٹا ہی رہا تھا کہ دوسرا حادثہ ہو گیا اب وہ بھی سامنے تھی جی ہاں میری دوسری

0
38
*Aik Kadwi Haqiqat**آج کل لوگ چند مسائل عالم صاحب سے سیکھ کر علماء پر تنقید کرنا شروع کر دیتے ہیں**Aaj kal Log kuch masail aalim sahab se sikh kar ulama pr tanqeed karna (Bura Bhala Kehna) shuru kar dete hai**✍🏻Noor Ali Attari Razawi*

0
16
*🌹خود کو کچھ سمجھنے سے پہلے خود کو کچھ بنا لیجیے پھر دنیا آپ کو بہت کچھ سمجھے گی🌹*

29
*Aik Talkh Haqeeqat**logo nai lambe baal ko tasawwuf gumaan kiye hai jis kai jitnai lambe baal utna zada wo tasawwuf mai phoncha hua**✍🏻Noor Ali Attari Razawi*

24
خزاں کی رتوں میں وہ تو بن کے بہارآئےدکھا کے جھلک اپنی گلوں کو سنوار آئےتھے جبرِ ایام کیسے جنہیں ہم گزار آئےعجب بوجھ تھے شانوں پہ جنکو اتار آئےچاہت کی بےچینی کو مٹانا ہوا مشکلاسی واسطے جاناں طالبِ دیدار آئےسحر تیری ہنسی کا قابض ہوا یوں دل پرجینے کے لیے دل تھااسے کر نثار آئےنہیں ہوئی تھی ہم کو میسر تری جھلکترے کوچے سے دلبر بڑے سوگوار آئےماضی کی تلخ یادیں کہاں جینے دیتی ہیںجسے بھولنا چاہیں وہ یاد بے شمار آئےکیسے وقت نے بدلی بازی ایک ہی پل میںشکار بن گئے تھے وہ جو کرنے شکار آئےکبھی وہ بولیں آکے مرے روبرو انعمتمہیں دیکھنے کی چاہ میں بڑے بےقراراآئے

0
25
سرکار ایک نہایت بری خبر ہے ۔۔ابھی ابھی سماجی طائر یعنی انسٹا چول گرام نے بتایا ہے کہ  یہ رشتہ نہیں ہو سکتا ۔ تیرے منہ سر پیر ہر جگہ خاک اور مرچیں ، مگر ہوا کیا اور کیوں ؟ٹیکنیکل فالٹ آ گیا ہے ۔۔۔ابے کیا مطلب ، کیسا فالٹ ؟یار بھولے سرکار جی وہ لڑکی نے صرف اپنے ہاتھ کی تصویر بھیجی ہے اور کہا ہے کہ اسی کو دیکھ کر اندازہ لگا کر فیصلہ کر لیں ۔ہیں ؟ یہ کیا بات ہوئی ؟ مذاق تو نہیں کر رہے ؟پی تو  نہیں لی وسکی رم وغیرہ ؟ توبہ توبہ ایک پیگ بھی اگر لگایا ہو تو آپ کنوارے مریں اور آپ کی قبر میں یہ لمبے لمبے کیڑے پڑیں لعنت تیری سوچ پر ۔۔۔مریں مرے سارے دشمن بَثہمول۔ تم بھی سوری سر مگر آپ کو تو پتا ہے  ایسی باتوں میں کون مذاق کرتا ہے ۔اش ۔۔۔اش ۔۔۔عشق  ۔۔۔کتنی تنگ نظری ہے کتنا عجیب پاگل پن ہے ۔۔اب سرکنڈوں میں دے ہی دیا ہے سر تو موصلی یا مصلی یا کسی  بلی کا کیاڈر ،یہ بتاؤ  ہاں پھر کیا جواب دوں محترمہ کو ۔۔۔یہ تو مشکل ہے بات ، کریں کیا ہم ، ایسا کرو میری انگلی کی تصویر بھیج دو اسے ۔۔۔سمجھ گیے نا کونسی انگلی کی تصویر بھیجو گے وہی درمیانی تیر کمانی والی چشم آسمانی ظل سبح

0
26
چلو فیصلہ کرتے ہیں ہاں جی کیا پرابلم ہے آپ کو ؟ تم مجہے حلف دو کس بات کا حلف ؟ایسے ہی حلف دو نہیں دیتا، جو کرنا ہے کر لو ۔۔۔اچھا پھر دیکھو کیا کرتی ہوں ارے ڈراؤ نہیں یار ، بتاؤ حلف کس بات کا ؟پوسٹ ڈیلیٹ کرو پیج سے ہیں ؟:ہیں ؟ یہ پوسٹ کہاں سے آ گئی؟جہاں سےبھی آئی ہو مری سے آ رہی ہو یا مکہ سے ۔تم پوسٹ ہٹاؤ نہیں ہٹاتا پوسٹ ۔۔جاؤ جو کرنا ہے کر لوآہم، دیکھو پھر میں کیا کرتی ہو اف مذاق کر رہا تھا چلو ہٹا دیتے ہیں جان تمیز سے بات کرو جان وان میں کسی کی نہیں اچھا ایک بات تو بتاؤ یہ تم چھوٹتے ہی مجہے بلاک کیوں کر دیتی ہو میری مرضی ۔۔۔عجیب ڈھوکسلا ہے چلو صلح کر لو صلح کرتی ہے میری جوتی واہ جی وہ نخرے تو دیکھو جناب کے ۔۔۔رسی جل گئی پر بل نہ گیا جائے گا بھی نہیں ، چنگیزی خون ہے میری رگوں میں اچھا میں چلی ارے کہاں چلی ابھی نا جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں۔(خاموشی )تحریر کاشف علی عبّاس  

0
23
حضرت عمر نے فرات کنارے مرتے بھوکے کتے تک کی ذمہ داری کو ریاست و حکومت پر ڈالا تھا ۔ تو اگر پاکستان کے مجبور  عوام بھوکے مر رہے ہوں، تو اس کی سیدھی سیدھی ذمہ داری سابقہ حکومت پر جاتی ہے، جب ملک ناکام ہو چکا ہو  تو خود اری، غیرت اور حریت پسندی کی بین ہر گز نہیں بجانی چاہیے ۔ٹیپو سلطان کی مثال تو دیتے ہو یہ بھی بتاؤ کہ اس کے دور میں عوام کتنی خوشحال تھی، امام حسین کا نام تو لیتے ہو مگر کیا ان کے کردار کا پانچ فیصد بھی اتنے سالوں میں نظر آیا ؟بلا شبہ یہ پاکستان کی ناکام ترین حکومت تھی، جس کے دور میں ہوشربا مہنگائی ، ناکام معشیت ، بیروزگاری اور عوامی زبوں حالی عروج پر رہی۔ خارجہ پالسی میں یک مشت روس کی جانب جھکاؤ احمقانہ فیصلہ تھا- خاص کر جب روس نے جارحیت پسندی کا ثبوت دیا ۔ گداگری اور عالمی کشکول نے ملکی سیاست و سالمیت کے وقار کی دھجیاں اڑا دیں - سونے پر سہاگہ یہ حکومت اپنے ہی وعدے پورے نا کر سکی، نا گھر بنے نا مفت کی نوکریاں ، بلکہ ملک میں کسی طرح کی ترقی نہیں ہوئی (جس پر عوام کا دم گھٹ گیا ) میں سمجھتا ہوں کہ میاں برادران کی حکومت یا کوئی بھی حکومت کم از کم اس تنزلی اور ناکامی کے چوں چوں کا مربہ

0
30

0
32
الله نے شان و شوکت سے محبوب کو سیر کرایا ہےمقصود تھا دیکھو جہاں والو میں نے عرش پہ یار بلا یا ہےہیں صف بستہ سب حور و ملک بر سایہ نور افلاک تلکخالق نے فرش سے عرش تلک رحمت کا عطر چھڑ کایا ہےاس شب کی رونق کیا کہنے ہر جاہ ہی نور کے ہیں آئینےدوزخ۔   پہ حلم    کا قفل۔     لگا۔۔    رضون۔    نے خلد سجایا ہےسوئے تھے حطیم میں آقا میرے جبریل بھی آ قدموں پہ گرےتسنیم سے آپ کو نہلا کر معراج کا مژدہ سنایا ہے رب ارنی موسی کہتے رہے پھر طور پر آتے جاتے رہےدیکھی جو جھلک اک پردے سے موسیٰ کا دل گھبرا یا ہےالله یہ شان محبوبی خالق نے عطاء کی یہ خوبیقوسین کے قصر  معلیٰ میں بے پردہ نظارہ پایا ہےمکہ سے چلے اقصیٰ میں گئے جبریل بھی آپ کے ساتھ رہےاقصیٰ کا امام بنا کر کے نبیوں سے شان بڑھایا ہےالله نے اپنی قدرت سے شب بھر میں کیا یہ سارا کرمخالق نے زمیں سے عرش تلک محبوب کو سیر کرایا ہےسدرہ پہ ٹھہر کر بولے امیں میں تو ہوں یہیں کا آقا مکیںجل جائیں گے آگے بال و پر میرا یہ ہی ٹھہرایا ہےمحبوب اکیلے چلتے رہے نور کے پردے میں ڈھلتے رہےماذاغ کا کجلہ آنکھوں میں فا اوحی کا تغرا عطایا ہےخ

0
18
الله نے شان و شوکت سے محبوب کو سیر کرایا ہےمقصود تھا دیکھو جہاں والو میں نے عرش پہ یار بلا یا ہےہیں صف بستہ سب حور و ملک بر سایہ نور افلاک تلکخالق نے فرش سے عرش تلک رحمت کا عطر چھڑ کایا ہےاس شب کی رونق کیا کہنے ہر جاہ ہی نور کے ہیں آئینےدوزخ پہ حلم کا قفل لگا رضون نے خلد سجایا ہےسوئے تھے حطیم میں آقا میرے جبریل بھی آ قدموں پہ گرےتسنیم سے آپ کو نہلا کر معراج کا مژدہ سنایا ہے رب ارنی موسی کہتے رہے پھر طور پر آتے جاتے رہےدیکھی جو جھلک اک پردے سے موسیٰ کا دل گھبرا یا ہےالله یہ شان محبوبی خالق نے عطاء کی یہ خوبیقوسین کے قصر  معلیٰ میں بے پردہ نظارہ پایا ہےمکہ سے چلے اقصیٰ میں گئے جبریل بھی آپ کے ساتھ رہےاقصیٰ کا امام بنا کر کے نبیوں سے شان بڑھایا ہےالله نے اپنی قدرت سے شب بھر میں کیا یہ سارا کرمخالق نے زمیں سے عرش تلک محبوب کو سیر کرایا ہےسدرہ پہ ٹھہر کر بولے امیں میں تو ہوں یہیں کا آقا مکیںجل جائیں گے آگے بال و پر میرا یہ ہی ٹھہرایا ہےمحبوب اکیلے چلتے رہے نور کے پردے میں ڈھلتے رہےماذاغ کا کجلہ آنکھوں میں فا اوحی کا تغرا عطایا ہےخالق کے جلوں میں گم ہو کر کن کن کی صدا میں دھن ہو کرعتیق وہاں بھی آقا نے رب

0
38
آسان موت کے لیے اکثر مشکل زندگی گزارنی پڑتی ہے۔صبر اور مایوسی کو مکس مت کریں۔ صبر یقینِ محکم ہے، عملِ پیہم ہے۔اللہ کی رضا آپ کی تکلیف میں نہیں ہے، آپ کے تکلیفات کا مقابلہ کر کے اُن پر فتح پانے میں ہے۔مایوس ہو کر ہار ماننے کو صبر اور تسلیم و رضا مت جانیے۔ یہ شیطان کا وسوسہ ہے۔

0
67
تم نے  بے وجہہ کسی سے  رشک کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟جب تنہائی بڑھ رہی ہو ۔۔۔جیسے رات کی سیاہ چادر دھیرے سے سرکے ۔۔۔اور من میں نت نینے جذبات بھڑکے ۔۔۔اور بڑھ رہی تنہائی ہے ۔۔۔آشنائی ہے ۔۔۔جدائی ہے ۔۔۔تو اس وقت دنیا سے الگ تھلگ ہو کر کچھ خود سے مخلص ہو کر اگر سوچو کہ کیا جیون میں اس سمے سب حاصل ہے اور کامل ہے اور شانتی کی پائل بجتی ہے مگر من کیوں گھائل ہے ؟ یہ درد اب کیوں ہے یہ کیا ہے اس کا سبب اب کیا ہے کیوں ہے تو سچ سچ بتاؤ ۔۔۔تم نے  بے وجہہ کسی پر شک  کیا ہے اور تم نے کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟جب یہ دل عجب انداز میں بنا وجھہ کے ایسے ہی کوئی نام پڑھ کر دھڑکے بری طرح کھڑکے ۔۔تو سمجھ لینا کہ یہ عشق کی گہری چال ہے جو واپس نہیں ہوتی جتنا انکار کر لو ۔۔۔یہ ہو کر رہتا ہے ۔۔۔تبھی رومانوی  تباہی ہوتی ہے سچ سچ بتاؤ ۔۔۔کبھی کسی سے  عشق کیا ہے؟عشق ؟؟؟تحریر : کاشف علی عبّاس

0
36
جشن نور مبارکمجھے یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہے کہ اس مرتبہ دیوالی بڑے جوش و خروش سے منائی جارہی ہے اور لوگوں میں ایک نئے قسم کی امنگ نظر آتی ہے جو پچھلے دو سال سے مفقود تھی ۔ پچھلے دو سالوں میں انتہائی درجے کی تباہی و بربادی ، بیماری ، ہلاکت، اقتصادی بحران کو دیکھ کر لوگ اتنے خوفزدہ ہوگئے تھے کہ لوگ گھروں سے نکل نہ پاتے تھے لیکن تقریبا پانچ ماہ سے کورونا کے واقعات میں خاطر خواہ کمی آئی اموات میں بہت کمی آئی اور جیسے جیسے کورونا کا اثر کم‌ہوا لوگوں نے بھی دبے رکے  ہوئے قدم اٹھانے شروع کیے،  کچھ ملنا جلنا شروع کیا ۔ حکومتوں نے بھی بازار، سنیما، تفریح گاہیں کھو لیں ۔ چہل پہل بازاروں میں واپس لوٹی اور نومبر آتے آتے جو خدشات تھے اللہ کے فضل سے وہ ظہور میں نہیں آئے اور اس لئے ماحول جشن کا ماحول بن گیا  اللہ اس کو دائم و قائم رکھے لوگوں کو ان کی خوشی وا پس ملے, لوگوں کو ان کے روزگار واپس ملیں , کاروبار پھر سے چلنے لگے اور یہ دنیا پھر وہی جو تھرکتی دنیا تھی، جو لہکتی دنیا تھی ،جو مہکتی دنیا تھی ، واپس ویسی ہی ہو جاۓ جہاں کوئی بیر نہ ہو ، کسی بھی قسم کی نفرت نہ ہو ، بس انسا

34
جس   بھی۔۔۔۔ افسانہ نگار کی۔۔۔۔۔یہ  تخلیق   ہے  دنیا۔۔۔ خالق جو بھی ہے اس حکایت کا ۔۔۔کہانی یہ جس نے لکھی ھے ۔۔۔ اسے مجھ سے ملانا تم۔۔۔۔ میں اسکو بتاؤں گا۔۔۔ کہانی ایسے نہیں لکھتے۔۔۔ پاس گر جادوئی قوت ہو۔۔۔ کام گر کن سے چلتا ہو۔۔۔ تو لگا تماشا نہیں لیتے۔۔۔ بنا پوچھے کسی سے بھی  ۔۔۔  نہیں کوئی  امتحان   لیتے  ۔۔۔ خود ہی بنا  کر   ستانا   نہیں اچھا  ۔۔ سب   جان   کر  پھر  بھی   آزمانا   نہیں اچھا  ۔۔مفلسی کے نرغے میں ۔۔۔    غربت   کے   چرخے   میں ۔۔۔۔   کسی کو  مقید نہیں کرتے۔۔۔ لامکانی  کا ہو شوق تو مسکن اپنا۔۔۔ حرم و کلیسا و مسجد نہیں کرتے۔۔۔ خود اپنے  لکھے  افسانے میں ۔۔۔کبھی کرداری شرکت نہیں کرتے۔۔۔ جو خود نہ سہی ہو کبھی۔۔۔    کسی کے  ساتھ  پھر وہ  حرکت نہیں کرتے۔۔ ہو  اگر&

0
40
تمہاری بات ایسی ہو مچل لوںوگرنہ بات سیدھی ہے سنبھل لوںکروں گا تیری دنیا سے بھی باتیںمیں اپنے خول سے پہلے نکل لوں مری وحشت لکھی وہ قسمتوں کی دعائیں اس سےمانگوں  تو بدل لوںوہ "سدرہ "کی گزر گاہوں سے آگے   مرے بس میں نہیں ہے میں بھی چل لوںتو میرے خواب آنکھوں سے چرا لے  کہو پھر اس کے بعد تم سے مل لوں مری خوش فہم دنیا کی وہ راہیں میں سورج کی تپش میں  کتنا جل لوں یہ اپنی کشمکش کے   سلسلے سب روش آدم سے ہیں کیسے نکل لوںجہانگیر حسن روش  

0
31
کسی بھی کام کی طرف اٹھایا جانے والا  پہلا قدم ہی ہمیشہ مشکل ہوتا ہے اس کے بعد آسانی ہی آسانی ،تو اے کوہسارِ محبت !  زندگی بدلنے کی طرف ایک قدم تو بڑھا ہی سکتے ہیں ناں؟ صاعقہ علی نوریصـᷧــᷭــͥــᷧــᷤـــاعقہ عــͥــᷞــⷽـــلی نـͥــᷢــᷳــᷳــᷡـــوری

0
37

0
76
ارشد صاحبآپ سے میں جزوی طور پر متفق ہوں "عدنان صاحب میں نئے لوگوں کی تعریف کے بالکل خلاف نہیں مگر آپ انہیں انکی غلطیاں نہیں بتائیں گے اور کہیں گے بہت خوب تو یہ آپ ان کے ساتھ ذیادتی کریں گے ۔" مکمل بات یہ ہے کہ  ترقی کے لیے درستگی اور حوصلہ افزائی دونوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر مبتدی کو ابتدا میں حوصلہ افزائی کی "زیادہ" ضرورت ہوتی ہے  بنسبت نکتہ چینی کے (5:1) سمجھ لیں تجربہ کر کے تصدیق کی جاسکتی ہے کہ ابتدا میں "محظ تکنیکی تنقید" کرنا  حوصلہ شکنی کا سبب بنتا ہے اور بیچارہ مُبتدی تنقید کے بوجھ تلے ایسا دب جاتا ہے کہ آئندہ کوشش کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔۔۔جو کسی طور بھی منظور نہیں آج غلط لکھے گا  تو کل درست اور آئندہ خوبصورت بھی سب اسی رستے سے گزر کر آگے بڑھے ہیں چِہ کہتر چِہ مہترمیں نے اچھا شعر ڈھونڈ کر تحسین کر دی  جس کی گواہی آپ نے دے دی ہے "ہاں وہ ایک شعر ضرور اچھا ہے" آپ نے غلطیوں کی نشاندہی کر دی ہے میں نے اپنا کام کر دیا اور آپ نے اپنا۔۔۔! مقصود ہے سفر کا جاری رہنا اور کارواں

0
69
سافٹ وئیر نے قمقمے کو خط کشیدہ کر دیا تھاقم قمے کو قبول کیاتھا۔ The same happened withہمشیرہ

0
2
58
جہاں تک دوسرے شعر کا تعلق ہے توکسی بناء واحد پر زیادہ افراد جھگڑ سکتے ہیں۔یہاں توجہ جھگڑوں (جمع) پر نہیں بلکہ "وجہ" پر دلائی گئی ہے جو واحد ہےاور بذاتہی اس نکتہ میں تمام شعر کا حسن مرتکز ہے اگر بنظر غائر دیکھا جائےتو مزید یہ کہ نفس مضمون کی رعایت رکھتے ہوئے "آدمی" بطور جمع مستعمل ہوا ہے دوم یہ کہ جیسا آپ نے فرمایا"جھگڑتا آدمی ہے "تو سوال پیدا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔کس سے جھگڑتا ہے؟ جو مقصود محل نہیں۔ القصہ، گرامر سے اوپر اٹھ کر" بین السطور لطیف معانی" پر دھیان دینے سے "نکتہ محل" از خود "نکتہ حسن کلام" میں بدل سکتا ہے۔ہر چند قواعد گرامر اپنی جگہ مسلم لیکن یاد رہے سخن گوئی کا مقصود الفاظ و گرامر و عروض نہیں بلکہ ۔۔۔۔مطالب ہوتے ہیں۔ 

0
1
173

0
175
🌹عشقِ کشمیر میرا سہرا ہے 🌹مذہبی نفرتوں کا چہرہ ہےعشقِ کشمیر میرا سہرا ہےزندگی بین ، موت رقص کرےدنیا اس بے بسی پہ کان دھرےموت بس خون کی ہوس میں ہےزندگی موت کی قفس میں ہےہے قیامت قریب وادی کےآہ مولا نصیب وادی کےصبر کی کوئی حد وہاں دیکھےظلم ہی ظلم ہے جہاں دیکھےریاض حازم

0
1
67