0
43
🌹عشقِ کشمیر میرا سہرا ہے 🌹مذہبی نفرتوں کا چہرہ ہےعشقِ کشمیر میرا سہرا ہےزندگی بین ، موت رقص کرےدنیا اس بے بسی پہ کان دھرےموت بس خون کی ہوس میں ہےزندگی موت کی قفس میں ہےہے قیامت قریب وادی کےآہ مولا نصیب وادی کےصبر کی کوئی حد وہاں دیکھےظلم ہی ظلم ہے جہاں دیکھےریاض حازم

0
1
13

60

0
74
                             " لال كنیر"                 لال كنیر، آپ میں سے اکثر  اس نام کو جانتے ہونگے اور چند ایک ایسے بھی ہونگے جو اس نام سے پہلی دفعہ واقف ہوے ہونگے ۔چونکہ اللّه نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اسے اور بھی بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے اور ایسی ایسی نعمتیں عطاء کی ہیں کہ انسان ششدر رہ جاتا ہے ۔اللّه نے کائنات کو خوبصورت بنانے کے لئے بہت سے رنگ بکھیرے ہیں۔اگر زمین کو ہی دیکھا جائے تو ایسے ایسے رنگ نظر آے گے، ایسی ایسی  چیزیں نظر آے گی بظاھر تو وه ایک دوسرے سے مختلف ہونگی لیکن ایک جھلک ایسی بھی ہوگی جو سب میں آپکو یکساں نظر آے گی وہ جھلک قدرت کی جھلک ہوگی۔کہنے والے کہتے ہیں کے یہ جھلک نصیب والو کو نظر آتی ہے۔اگر آپکو یہ       جھلک نظر آ رہی ہے تو آپ بڑے نصیب والے ہیں۔زمین کو اگر ایک باغ کی مانند سمجھا جائے تو باغ کا سب سے خوب صورت ترین پودا انسان ہے اور بھی بہت سارے پودے ہیں جڑی بوٹیاں ہیں  کچھ زہریلی ہیں جنکو ہم (  كنیر )کہتے

0
31
اردو غزل اور تصور عشقاردو غزل یا اردو شاعری عشق کے ارد گرد گھومتی ہے۔غزل کا بنیادی موضوع عشق رہا ہے۔عشق کو زندگی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اور عشق کی ناآسودگی کی وجہ سے غم وجود میں آتا ہے۔اور اسی کے ذریعے زندگی کی شناخت ممکن ہے۔شاہی درباروں میں مختلف محفلوں کا آراستہ ہونا ایک عام بات تھی کیوں کہ اس کے ذریعے خوشی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔اردو شاعری میں بھی عشق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ابتدائی شاعری میں عشق مجازی پر زور زیادہ تھا لیکن جیسے جیسے اردو شاعری کا سفر آگے بڑھتا ہے عشق حقیقی کا تصور بھی نظر آنے لگتا ہے۔اردو شاعری کے شروعاتی دور میں عشق مجازی کو زیادہ پیش کیا گیا یہی وجہ ہے کہ خاتم، آبرو اور مضمون وغیرہ کے یہاں عشق کا تصور رنگ رنگینیوں اور نشاط تک محدود نظر آتے ہیں۔لیکن میر حسن مثنوی ‘خواب و خیال’ میں عشق کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ عشق محض خوشی یا مسرت نہیں بلکہ اظہار کا ذریعہ ہے۔میر تقی میر کے یہاں بھی عشق و عاشقی کا یہی تصور پیش کیا گیا ہے۔اس میں صرف لذت و انبساط نہیں بلکہ قربانی و ایثار کا جذبہ بھی موجود ہے۔عشق کا تصور مختلف شعرا کے یہاں مختلف ملتا ہے۔میر حسن نے پوری مثنوی ‘خواب و

29
 کیا درج ذیل شعر بحرِ طویل میں درست اترتا ہے یا نہیں؟دونوں مصروں میں پہلے لفظ کے آخری حروف گر رہے ہیں۔ یعنی پڑھے نہیں جا رہے۔"ہے اک نگہتِ گل سے معطّر جہاں میرا،جو بے رنگ و بو تھا دشتِ آشفتگاں میرا-بہت شکریہ 

0
21
کیا 'کدہ' اور 'زدہ' جیسے الفاظ 'بجا' اور 'وفا' کے ہم قافیہ شمار ہونگے ؟اگرچہ انکے آخری حروف مختلف ہیں پر ایک سے سنای دیتے ہیں۔ شکریہ !

3
90
میں جو رفتہ رفتہ زندگی سے پرے  جا رہا ہوں تو میں برق برق انا میں اپنی ِگرے جا رہا ہوںچڑھا کر آنکھ پر پردے لگا کر قفل ایماں کومیں اک بے حسی کے دریا میں اترے جا رہا ہوںمیں دیکھوں ظلم کے منبر پہ ظالم کی ڈھٹائی کوسیےؔ ہونٹوں کو اپنے بے ضمیر ہوےجا رہا ہوںلگی ہے آگ بستی میں جلے ہیں لوگ کتنے ہیمیں چادر اوڑھے غفلت کی سوےجا رہا ہوں ملا کر خاک میں دیکھو اُس عالیشان کی باتیں کہ کیسا خوب خود کو ہی مٹاے جا رہا ہوںجو دیکھا عکس کو اپنے حقیقی آینے میں اخترّتو جانا شرفِ انسانیت سے بہت دور جا رہا ہوں

3
162
فیض والوں کا اگر فیض ہؤا ہوتا ہےبیس کا ہندسہ بھی پھر سو سے بڑا ہوتا ہےیہ فرشتوں کو بھی ابلیس بنا سکتے ہیںوہی ہوتا ہے کہ جو ان نے کہا ہوتا ہے

0
60
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

64
1798
کبھی رت پرانی کو یاد کر کبھی مشکلوں کا حساب کرمری حسرتوں کو تو داد دے کبھی حسنِ لیلی کو خواب کرکبھی منتشر کبھی  روبرو، کبھی نفرتیں کبھی آرزوکبھی جستجو رہے کوبہ کو، کبھی دوبدو تو جناب کریہ خیال دل میں اتر گیا کہ زمانہ جو تھا گزر گیا کبھی سوچوں میں وہ   دوام  دے کبھی دید پھر سے عذاب کرکبھی عشق  لا مرے روبرو ،کبھی میں کروں زرا گفتگو کبھی حسن کو بیقرار کر کبھی حسنِ تاب  بے تاب کرکبھی وصل کی رہیں  فرقتیں، کبھی دوریاں کبھی قربتیں کبھی آرزو میں تڑپ ملے کبھی چاہتوں کا حجاب کرکبھی یاد کر کبھی رخ دکھا، کبھی ساقی بن  کبھی مے پلا کبھی شام شامِ غزل کریں کبھی غرق موجِ شراب کرعتیق الرحمن پرستشؔ

0
100