جس   بھی۔۔۔۔ افسانہ نگار کی۔۔۔۔۔یہ  تخلیق   ہے  دنیا۔۔۔ خالق جو بھی ہے اس حکایت کا ۔۔۔کہانی یہ جس نے لکھی ھے ۔۔۔ اسے مجھ سے ملانا تم۔۔۔۔ میں اسکو بتاؤں گا۔۔۔ کہانی ایسے نہیں لکھتے۔۔۔ پاس گر جادوئی قوت ہو۔۔۔ کام گر کن سے چلتا ہو۔۔۔ تو لگا تماشا نہیں لیتے۔۔۔ بنا پوچھے کسی سے بھی  ۔۔۔  نہیں کوئی  امتحان   لیتے  ۔۔۔ خود ہی بنا  کر   ستانا   نہیں اچھا  ۔۔ سب   جان   کر  پھر  بھی   آزمانا   نہیں اچھا  ۔۔مفلسی کے نرغے میں ۔۔۔    غربت   کے   چرخے   میں ۔۔۔۔   کسی کو  مقید نہیں کرتے۔۔۔ لامکانی  کا ہو شوق تو مسکن اپنا۔۔۔ حرم و کلیسا و مسجد نہیں کرتے۔۔۔ خود اپنے  لکھے  افسانے میں ۔۔۔کبھی کرداری شرکت نہیں کرتے۔۔۔ جو خود نہ سہی ہو کبھی۔۔۔    کسی کے  ساتھ  پھر وہ  حرکت نہیں کرتے۔۔ ہو  اگر&

0
10
تمہاری بات ایسی ہو مچل لوںوگرنہ بات سیدھی ہے سنبھل لوںکروں گا تیری دنیا سے بھی باتیںمیں اپنے خول سے پہلے نکل لوں مری وحشت لکھی وہ قسمتوں کی دعائیں اس سےمانگوں  تو بدل لوںوہ "سدرہ "کی گزر گاہوں سے آگے   مرے بس میں نہیں ہے میں بھی چل لوںتو میرے خواب آنکھوں سے چرا لے  کہو پھر اس کے بعد تم سے مل لوں مری خوش فہم دنیا کی وہ راہیں میں سورج کی تپش میں  کتنا جل لوں یہ اپنی کشمکش کے   سلسلے سب روش آدم سے ہیں کیسے نکل لوںجہانگیر حسن روش  

0
10
کسی بھی کام کی طرف اٹھایا جانے والا  پہلا قدم ہی ہمیشہ مشکل ہوتا ہے اس کے بعد آسانی ہی آسانی ،تو اے کوہسارِ محبت !  زندگی بدلنے کی طرف ایک قدم تو بڑھا ہی سکتے ہیں ناں؟ صاعقہ علی نوریصـᷧــᷭــͥــᷧــᷤـــاعقہ عــͥــᷞــⷽـــلی نـͥــᷢــᷳــᷳــᷡـــوری

0
11

0
28
ارشد صاحبآپ سے میں جزوی طور پر متفق ہوں "عدنان صاحب میں نئے لوگوں کی تعریف کے بالکل خلاف نہیں مگر آپ انہیں انکی غلطیاں نہیں بتائیں گے اور کہیں گے بہت خوب تو یہ آپ ان کے ساتھ ذیادتی کریں گے ۔" مکمل بات یہ ہے کہ  ترقی کے لیے درستگی اور حوصلہ افزائی دونوں کی ضرورت ہوتی ہے مگر مبتدی کو ابتدا میں حوصلہ افزائی کی "زیادہ" ضرورت ہوتی ہے  بنسبت نکتہ چینی کے (5:1) سمجھ لیں تجربہ کر کے تصدیق کی جاسکتی ہے کہ ابتدا میں "محظ تکنیکی تنقید" کرنا  حوصلہ شکنی کا سبب بنتا ہے اور بیچارہ مُبتدی تنقید کے بوجھ تلے ایسا دب جاتا ہے کہ آئندہ کوشش کرنا ہی چھوڑ دیتا ہے۔۔۔جو کسی طور بھی منظور نہیں آج غلط لکھے گا  تو کل درست اور آئندہ خوبصورت بھی سب اسی رستے سے گزر کر آگے بڑھے ہیں چِہ کہتر چِہ مہترمیں نے اچھا شعر ڈھونڈ کر تحسین کر دی  جس کی گواہی آپ نے دے دی ہے "ہاں وہ ایک شعر ضرور اچھا ہے" آپ نے غلطیوں کی نشاندہی کر دی ہے میں نے اپنا کام کر دیا اور آپ نے اپنا۔۔۔! مقصود ہے سفر کا جاری رہنا اور کارواں

0
36
سافٹ وئیر نے قمقمے کو خط کشیدہ کر دیا تھاقم قمے کو قبول کیاتھا۔ The same happened withہمشیرہ

0
2
31
جہاں تک دوسرے شعر کا تعلق ہے توکسی بناء واحد پر زیادہ افراد جھگڑ سکتے ہیں۔یہاں توجہ جھگڑوں (جمع) پر نہیں بلکہ "وجہ" پر دلائی گئی ہے جو واحد ہےاور بذاتہی اس نکتہ میں تمام شعر کا حسن مرتکز ہے اگر بنظر غائر دیکھا جائےتو مزید یہ کہ نفس مضمون کی رعایت رکھتے ہوئے "آدمی" بطور جمع مستعمل ہوا ہے دوم یہ کہ جیسا آپ نے فرمایا"جھگڑتا آدمی ہے "تو سوال پیدا ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔کس سے جھگڑتا ہے؟ جو مقصود محل نہیں۔ القصہ، گرامر سے اوپر اٹھ کر" بین السطور لطیف معانی" پر دھیان دینے سے "نکتہ محل" از خود "نکتہ حسن کلام" میں بدل سکتا ہے۔ہر چند قواعد گرامر اپنی جگہ مسلم لیکن یاد رہے سخن گوئی کا مقصود الفاظ و گرامر و عروض نہیں بلکہ ۔۔۔۔مطالب ہوتے ہیں۔ 

0
1
66

0
118
🌹عشقِ کشمیر میرا سہرا ہے 🌹مذہبی نفرتوں کا چہرہ ہےعشقِ کشمیر میرا سہرا ہےزندگی بین ، موت رقص کرےدنیا اس بے بسی پہ کان دھرےموت بس خون کی ہوس میں ہےزندگی موت کی قفس میں ہےہے قیامت قریب وادی کےآہ مولا نصیب وادی کےصبر کی کوئی حد وہاں دیکھےظلم ہی ظلم ہے جہاں دیکھےریاض حازم

0
1
36

259

0
134
                             " لال كنیر"                 لال كنیر، آپ میں سے اکثر  اس نام کو جانتے ہونگے اور چند ایک ایسے بھی ہونگے جو اس نام سے پہلی دفعہ واقف ہوے ہونگے ۔چونکہ اللّه نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ساتھ اسے اور بھی بہت ساری نعمتوں سے نوازا ہے اور ایسی ایسی نعمتیں عطاء کی ہیں کہ انسان ششدر رہ جاتا ہے ۔اللّه نے کائنات کو خوبصورت بنانے کے لئے بہت سے رنگ بکھیرے ہیں۔اگر زمین کو ہی دیکھا جائے تو ایسے ایسے رنگ نظر آے گے، ایسی ایسی  چیزیں نظر آے گی بظاھر تو وه ایک دوسرے سے مختلف ہونگی لیکن ایک جھلک ایسی بھی ہوگی جو سب میں آپکو یکساں نظر آے گی وہ جھلک قدرت کی جھلک ہوگی۔کہنے والے کہتے ہیں کے یہ جھلک نصیب والو کو نظر آتی ہے۔اگر آپکو یہ       جھلک نظر آ رہی ہے تو آپ بڑے نصیب والے ہیں۔زمین کو اگر ایک باغ کی مانند سمجھا جائے تو باغ کا سب سے خوب صورت ترین پودا انسان ہے اور بھی بہت سارے پودے ہیں جڑی بوٹیاں ہیں  کچھ زہریلی ہیں جنکو ہم (  كنیر )کہتے

0
54
اردو غزل اور تصور عشقاردو غزل یا اردو شاعری عشق کے ارد گرد گھومتی ہے۔غزل کا بنیادی موضوع عشق رہا ہے۔عشق کو زندگی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے اور عشق کی ناآسودگی کی وجہ سے غم وجود میں آتا ہے۔اور اسی کے ذریعے زندگی کی شناخت ممکن ہے۔شاہی درباروں میں مختلف محفلوں کا آراستہ ہونا ایک عام بات تھی کیوں کہ اس کے ذریعے خوشی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔اردو شاعری میں بھی عشق کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ابتدائی شاعری میں عشق مجازی پر زور زیادہ تھا لیکن جیسے جیسے اردو شاعری کا سفر آگے بڑھتا ہے عشق حقیقی کا تصور بھی نظر آنے لگتا ہے۔اردو شاعری کے شروعاتی دور میں عشق مجازی کو زیادہ پیش کیا گیا یہی وجہ ہے کہ خاتم، آبرو اور مضمون وغیرہ کے یہاں عشق کا تصور رنگ رنگینیوں اور نشاط تک محدود نظر آتے ہیں۔لیکن میر حسن مثنوی ‘خواب و خیال’ میں عشق کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے کہ عشق محض خوشی یا مسرت نہیں بلکہ اظہار کا ذریعہ ہے۔میر تقی میر کے یہاں بھی عشق و عاشقی کا یہی تصور پیش کیا گیا ہے۔اس میں صرف لذت و انبساط نہیں بلکہ قربانی و ایثار کا جذبہ بھی موجود ہے۔عشق کا تصور مختلف شعرا کے یہاں مختلف ملتا ہے۔میر حسن نے پوری مثنوی ‘خواب و

226
 کیا درج ذیل شعر بحرِ طویل میں درست اترتا ہے یا نہیں؟دونوں مصروں میں پہلے لفظ کے آخری حروف گر رہے ہیں۔ یعنی پڑھے نہیں جا رہے۔"ہے اک نگہتِ گل سے معطّر جہاں میرا،جو بے رنگ و بو تھا دشتِ آشفتگاں میرا-بہت شکریہ 

0
94
کیا 'کدہ' اور 'زدہ' جیسے الفاظ 'بجا' اور 'وفا' کے ہم قافیہ شمار ہونگے ؟اگرچہ انکے آخری حروف مختلف ہیں پر ایک سے سنای دیتے ہیں۔ شکریہ !

3
253
میں جو رفتہ رفتہ زندگی سے پرے  جا رہا ہوں تو میں برق برق انا میں اپنی ِگرے جا رہا ہوںچڑھا کر آنکھ پر پردے لگا کر قفل ایماں کومیں اک بے حسی کے دریا میں اترے جا رہا ہوںمیں دیکھوں ظلم کے منبر پہ ظالم کی ڈھٹائی کوسیےؔ ہونٹوں کو اپنے بے ضمیر ہوےجا رہا ہوںلگی ہے آگ بستی میں جلے ہیں لوگ کتنے ہیمیں چادر اوڑھے غفلت کی سوےجا رہا ہوں ملا کر خاک میں دیکھو اُس عالیشان کی باتیں کہ کیسا خوب خود کو ہی مٹاے جا رہا ہوںجو دیکھا عکس کو اپنے حقیقی آینے میں اخترّتو جانا شرفِ انسانیت سے بہت دور جا رہا ہوں

3
203
فیض والوں کا اگر فیض ہؤا ہوتا ہےبیس کا ہندسہ بھی پھر سو سے بڑا ہوتا ہےیہ فرشتوں کو بھی ابلیس بنا سکتے ہیںوہی ہوتا ہے کہ جو ان نے کہا ہوتا ہے

0
128
یہاں پر تبصرے میں آپ ایسے الفاظ کی نشاندہی کر سکتے ہیں جن کی تقطیع آپ کے خیال میں سسٹم غلط دکھاتا ہے۔ نیز ایسے الفاظ بھی آپ یہاں پر لکھ سکتے ہیں جو کہ سسٹم  میں سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ اس طرح الفاظ کو رپورٹ کرنے سے ہم ان کو سسٹم میں داخل کر سکیں گے اور تقطیع کا نظام باقی صارفین کے لئے بھی بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔ بہت شکریہ :)

101
3059
کبھی رت پرانی کو یاد کر کبھی مشکلوں کا حساب کرمری حسرتوں کو تو داد دے کبھی حسنِ لیلی کو خواب کرکبھی منتشر کبھی  روبرو، کبھی نفرتیں کبھی آرزوکبھی جستجو رہے کوبہ کو، کبھی دوبدو تو جناب کریہ خیال دل میں اتر گیا کہ زمانہ جو تھا گزر گیا کبھی سوچوں میں وہ   دوام  دے کبھی دید پھر سے عذاب کرکبھی عشق  لا مرے روبرو ،کبھی میں کروں زرا گفتگو کبھی حسن کو بیقرار کر کبھی حسنِ تاب  بے تاب کرکبھی وصل کی رہیں  فرقتیں، کبھی دوریاں کبھی قربتیں کبھی آرزو میں تڑپ ملے کبھی چاہتوں کا حجاب کرکبھی یاد کر کبھی رخ دکھا، کبھی ساقی بن  کبھی مے پلا کبھی شام شامِ غزل کریں کبھی غرق موجِ شراب کرعتیق الرحمن پرستشؔ

0
153