کب تک ہم کو خواب دکھایا جائے گا
کب جنَّت کا باب دکھایا جائے گا
آیا ہے سیلاب دکھایا جائے گا
ہوں گے وہ غرقاب دکھایا جائے گا
وعدوں پر کب تک بیتے گا جیون یہ
کب پیاسوں کو آب دکھایا جائے گا
میرے نکتہ چینوں نے پوچھا ہے کب
اطلس اور کمخواب دکھایا جائے گا
میں ان سے کہتا ہوں تھوڑا صبر کرو
ہوتے ہیں اسباب دکھایا جائے گا
جنگل میں ہیں چھوڑ گئے جو آدم کو
ہیں کس کے احباب دکھایا جائے گا
دوست خدا کے جو ہوتے ہیں ان کے بھی
ہوتے ہیں آداب دکھایا جائے گا
جن کا ظاہر باطن ایک ہے دنیا میں
کتنے ہیں کم یاب دکھایا جائے گا
کھیون ہار نہ ہو کشتی کا گر کوئی
ملتے ہیں گرداب دکھایا جائے گا
سن بیٹھے ہیں کفر کے فتوے پہلے بھی
کون ہے اب کذّاب دکھایا جائے گا
تاریکی تھی وقت پہ اپنے دنیا میں
اُترا جو مہتاب دکھایا جائے گا
کوثر کی نہریں لایا ہے کون یہاں
کون ہوئے سیراب دکھایا جائے گا
پھر سچا اسلام جہاں میں پھیلا ہے
ہم بھی ہیں بے تاب دکھایا جائے گا
طارق اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے سب
ہوں گے ہم شاداب دکھایا جائے گا

0
3