چشم کا درخشاں وہ تارا تھا
دل کے میرے اُفق پہ چمکا تھا
لمس محبوب کا ہو جانے سے
تن بدن خوشبو سے بھی مہکا تھا
عشق کا ڈھونگ جو رچایا تھا
جھوٹے وعدے سے من بھی بہلا تھا
کچھ خفا چہرہ میں نے دیکھا تب
"وہ مرے سامنے سے گزرا تھا"
حال کو پوچھتا جو بھی ملتا
یار کے روٹھنے کا چرچا تھا
چھپ چھپائے اِدھر اُدھر ہوتا
عصر کے طعنے سے میں دُبکا تھا
اُن کی نظریں بچھی رہی ناصؔر
حسن کا اُن کے جو بھی شیدا تھا

0
32