عشق میں کام بن جائے حسینوں کا
تال و سر بھی ملے جب ہے نصیبوں کا
بات تو دل لگی کی ہوتی رہتی ہے
پھر بھی پژمردگی سی چھائی رہتی ہے
پھول مرجھائیں بھی تو کیا پریشانی
کھل کلی جائیں تو، ہو دور حیرانی
بجلیاں گرتے ہوئے خود تھک جائیں
آشیاں خوبصورت بنتے پر جائیں
کشت ویراں میں بھی پھل لگ جو سکتے ہیں
گر ہو کاوش تو بن گلزار سکتے ہیں
فکر ناصر بڑی پرواز رکھتی ہے
حوصلہ کو جلا، قوت بھی دیتی ہے

0
75