مبارک نیا سال آیا
تمنا، مرادیں بھی لایا
گلہ شکوہ رکھ کر کنارے
ملن، آرزو کو جگایا
دئے، شمع روشن ہوئے اب
اجالہ سے گھر جگمگایا
دکھوں کے بہت زخم گہرے
بڑی ہی لگن سے دبایا
ستم بھی لگاتار سہتے
خدا پر بھروسہ جمایا
کرشمہ یہ ناصر تبھی ہو
غلط لفظ بھی نا سنایا

0
51