چلیں میرے ہمدم لگے ہیں سفینے
ہے منزل جو نوری نبی کے مدینے
دعا ہے بلاوا ہمیں آئے اُن کا
حسیں سے ہیں وحدت کے کچھ جام پینے
میں پلکوں پہ آؤں درِ مصطفیٰ پر
سَپَھل چاہوں کرنا دہر کے یہ جینے
نہیں ہے سلیقہ دعا کا خدایا
درِ جاں سکھائے ندا کے قرینے
بڑے خوب بندے میں آقا کے بردے
درخشاں ہیں جن کے سدا رہتے سینے
کیا خوب طالع اے زائر ہیں تیرے
گراں لوٹے تم نے عطا کے خزینے
مدینے میں مٹی جو خاکِ شفا ہے
اے محمود ذرے ہیں جس کے نگینے

2