یہ درد تنہائی بھی عجیب رہتی ہے
کہاں ستائش میرے نصیب رہتی ہے
بہت زیادہ تنقید جو ملی سننے
پڑوس کے گھر اب وہ قریب رہتی ہے
کبھی پرے ہٹ کر دیکھ تو ذرا لیکن
یہاں مگر جگی میں غریب رہتی ہے
کیا ادھر دولت ہی بٹورنا مقصد
تلاش بھی ہے کوئی نجیب رہتی ہے
رفیق سکھ میں ناصر ہزار بیٹھے ہیں
سوال کرلیں پھر یہ رقیب رہتی ہے

0
71