بڑوں کے ہم کبھی کردار یاد کرتے ہیں
پڑھے ہوئے تبھی اخبار یاد کرتے ہیں
سنائے جاتے ہیں اقوال شوق سے ان کے
سبھی مگن رہ بھی گفتار یاد کرتے ہیں
سنہرے وہ پنے تاریخ کے کریدیں تب
دئے گئے سارے ایثار یاد کرتے ہیں
کیا رعب دبدبہ کیا شان و شوکتیں پائیں
قرون اولیٰ کے ادوار یاد کرتے ہیں
بلند مائیگی، اوصاف ان گنت ہوں تو
نظریہ، سوچ و افکار یاد کرتے ہیں
ہیں قرطبہ کے کیا مینار بھی نہیں باقی
جو چھاپ چھوڑی وہ شہکار یاد کرتے ہیں
حوالہ چابیاں غرناطہ کی ہوئیں ناصؔر
جو بن حمار تھا، گنوار یاد کرتے ہیں

0
16