مدینہ میں چرچا ہوا ہے
عقیدت میں ڈوبا ہوا ہے
تھے سب منتظر، دیر تک جب
یکایک جو غوغا ہوا ہے
نئے دین سے رشتہ جوڑا
عدو تلملایا ہوا ہے
بنائی قبا پہلی مسجد
لقب جس کا تقویٰ ہوا ہے
ریاست کی بنیاد رکھی
روا عدل اعلیٰ ہوا ہے
ہدایت سے بدلی فضا بھی
مثل نور بخشا ہوا ہے
عطا ہو جو ناصر سفر حج
تو پھر من بھی کھویا ہوا ہے

0
12
97
آپ کی پوری نظم دو لخت ہے

زہے قسمت کہ صاحب والا نے اس لخت تخیل کو سراہا۔

0
ناصر صاحب دو لخت یا دو نیم ہونے سے مراد یہ ہے کہ ایک مصرعے کا خیال دوسرے مصرعے سے الگ ہو۔ یہ ایک عیب ہے۔ ایک شعر کے دونوں مصرعوں کو معنوی اعتبار سے اکائی سمجھا جاتا ہے۔ مثال: پہلے شعر میں دوسرے مصرعے کا پہلے مصرعے سے کوئی ربط نظر نہیں آ رہا۔ اس شعر کو دو لخت کہا جائے گا۔

مکرمی، اصلاح کے لئے دستہ و بستہ ہوئے مشکور ہوں- ملتمس ہوں کہ آئندہ بھی کچھ ہدایات ملتی رہے تاکہ بروقت تصحیح ہو سکے، والسلام-

0
ناصر صاحب میں آپکو اپنی بات سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں کیوں کہ آپ کا سارا ہی کلام اس اشکال کا شکار ہوتا ہے۔

جیسے کہ ذیشاں صاحب نے بتایا کہ شعر کے دونوں مصرعوں میں کوئ معنوی تعلق ہوتا اور اسکو کسی ربط سے ثابت ہونا چاہیۓ

آپ نے لکھا

مدینہ میں چرچا ہوا ہے
عقیدت میں ڈوبا ہوا ہے

کون ڈوبا ہوا ہے؟ یہ تو آپکو پتا ہے نا کہ کون شعر تو نہیں بتا رہا گو یا یہ دو الگ الگ جملے ہوۓ اسی کو شعر کا دو لخت ہونا کہتے پیں اور یہ بنیادی عیب ہے۔
اسی بات کو آپ یوں کہتے
مدینہ میں اسکا بھی چرچا ہوا ہے
مرا دل عقیدت میں ڈوبا ہوا ہے

تب بات صاف تھی۔
باقی شعروں کا بھی یہی حال ہے آپ خود سمجھ سکتے ہین۔ شعر کو گرامر کے حساب سے بھی صحیح ہونا چاہیۓ

0

عطا ہو جو ناصر سفر حج
تو پھر من بھی کھویا ہوا ہے

عطا ہو مستقبل کا صیغہ ہے اور ہوا ہے حال کا۔ آپ انہیں کیسے ملا سکتے ہیں۔

آپ کوئ لفظ اسکا مطلب جانے بغیر نہیں استعمال جیسے اگر آپکو روا کا مطلب پتہ ہے تو پھر آپ یہ نہیں لکھ سکتے تھے
روا عدل اعلیٰ ہوا ہے

شاعری قافیہ پیمائ کا نام نہیں اس میں خونِ جگر جاتا ہے

0
اول تو میں مشق کر رہا ہوں- ثانیاَ بحر و وزن بھی ابھی ہی کچھ پلے پڑا ہے- آپ کی توجہ میں رہونگا تو انشاء اللہ تربیت کی توقع رکھتا ہوں- در اصل میں نے پہلے اشعار میں ہجرت کے واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہوں- بحر کیف رفتہ رفتہ آپ جیسے خیر خواہوں کے بیش بہا مشوروں کو ملحوظ خاطر میں لاتے ہوئے کچھ مستفید ہو سکونگا- نظر عنایت سے نوازئیگا، بصد شکریہ-

0
ترممیم کے ساتھ :

مدینہ میں آمد کا چرچا ہوا ہے
عقیدت میں پھر دل بھی ڈوبا ہوا ہے
تھے جو منتظر با ادب دیر تک جب
یکایک وہاں شور اٹھتا ہوا ہے
نئے دین سے رشتہ ناطہ جڑا جب
عدو کس طرح تلملایا ہوا ہے
بنائی قبا نام کی پہلی مسجد
لقب جس کا تقویٰ نوازا ہوا ہے
ریاست کی بنیاد اسلام پر تھی
روا عدل تب سے اچھوتا ہوا ہے
ہدایت سے بدلی فضا کفر کی یوں
مثل نور جیسے جو پھیلا ہوا ہے
عطا تب ہو ناصر سعادت سفر حج
تڑپ سے ہی من غرق پورا ہوا ہے


0
ناصر صاحب بہت اچھی بات ہے اگر آپ اپنی شاعری کا معیار بڑھانا چاہتے ہیں اللہ کامیاب کرے۔
دیکھیں لکھنے کے لیے جو چیز سب سے ضروری ہے وہ ہے پڑھنا۔ آپ اچھا پڑھیں گے نہیں تو اچھا لکھیں گے نہیں۔ آپ کو پڑھنے کی ضرورت ہے۔
مثلا
تھے جو منتظر با ادب دیر تک جب
یکایک وہاں شور اٹھتا ہوا ہے
جب دیر تک کے ساتھ اچانک نہیں جاۓ گا۔ دیکھۓ اٹھتا کا مطلب ہوتا ہے آہستہ آہستہ - جیسے بادل اٹھتے چلے گۓ
تو پھر شور پھر اچانک کیسے ہو سکتا ہے- یہ زبان و بیان کی غلطی ہے

لقب جس کا تقویٰ نوازا ہوا ہے

نوزا یہاں بھرتی کا لفظ ہے جو صرف قافیے کے لیے ڈالا ہوا ہے بات اس کے بغیر بھی مکمل ہے۔ لقب ہوتا ہی نوازا ہوا ہے۔

روا عدل تب سے اچھوتا ہوا ہے
روا کا مطلب ہے جائز - جسکی اجازت ہو۔ خود سوچیے آپ کہ رہے ہیں عدل جائز ہے
یہ اچھوتا عدل اب جائز ہو گیا؟

ہدایت سے بدلی فضا کفر کی یوں
مثل نور جیسے جو پھیلا ہوا ہے
فضا اور جو میں کیا تعلق ہے؟ یہ غلط اردو ہے

عطا تب ہو ناصر سعادت سفر حج
تڑپ سے ہی من غرق پورا ہوا ہے

پورا یہاں پھر ہی بھرتی کا لفظ ہے اس کی کوئ ضرورت نہیں صفر قافیے کے لیے لکھا ہے آپ نے
جس زبان میں شاعری کرنی ہو اس کو گہرائ میں سیکھنا ضروری ہے

ارشد صاحب، پھر آپ کا محسن ہوں- مصروفیت کے باوجود مجھ جیسے نئے قلم کار کی رہنمائی فرمائی- یہي خواہش ہے کہ کوئی تو ہو جو بندہ کی کمیوں کی نشاندہی کرے- مجھے خوشی ہوگی گر اصلاح کا نقطہ چلتا رہے- "روا" کا ایک مطلب 'جاری'، 'رواں' کرنا بھی ہے- مزید پھر حقیر سی سعی کے بعد ترمیم کی ہے-

تھے سب منتظر با ادب عشق میں جو
یکایک وہاں شور برپا ہوا ہے
بنائی قبا نام کی پہلی مسجد
لقب جس کا تقویٰ سے جوڑا ہوا ہے
ہدایت سے بدلی فضا کفر کی یوں
مثل نور جیسے یہ اترا ہوا ہے
عطا تب ہو ناصر سعادت سفر حج
تڑپ سے ہو من بھی چھلکتا ہوا ہے

0
ناصر بہت اچھی بات ہے اگر کسی کو اندازہ ہو جاۓ کہ اس کو سیکھنا ہے- پھر راہ آسان ہو جاتی ہے ۔ اللہ مدد فرماتا ہے - دیکھے جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں آپ نے اردو نثر نہیں پڑھی ہے یا گہرائ سے نہیں پڑھی، آپ کے ہاں جملے کے بنیادی ڈھانچے میں غلطیاں ہیں۔ یاد رکھیں اچھا شعر نثر سے قریب ہوتا ہے۔ جو شعر لکھیں اسکی نثر بنائیں اگر نثر صھیح بن رہی ہے تو شعر کا ڈھانچا درست ہے اس میں شعریت بعد میں آۓ گی۔ اب آپ اپنا کلام دیکھیں

تھے سب منتظر با ادب عشق میں جو
یکایک وہاں شور برپا ہوا ہے
اسکی نثر ہو گی "جو سب عشق میں باادب منتظر تھے یکایک وہاں شور برپا ہوا ہے"
خود دیکھیں جملے میں کوی ربط نہیں ہے اگر ہوتا" جہاں سب عشق میں باادب منتظر تھے وہاں یکایک شور برپا ہوا ہے" تو پھر بھی بات بنتی۔
دوسرا دیکھیں

بنائی قبا نام کی پہلی مسجد
لقب جس کا تقویٰ سے جوڑا ہوا ہے

اسکی نثر دیکھیں " قبا نام کی پہلی مسجد بنائ تقویٰ سے جس کا لقب جوڑا ہوا ہے"
کس نے جوڑا ہے؟ جملہ غیر مکمل ہے ۔ ایسی ہی غلطیاں ہوتی ہیں آپ کے کلام میں تو وہ شعر بن ہی نہیں پاتا۔

اسی پر کام کریں پہلے تو۔


جی شکریہ ارشد صاحب، انشاءاللہ پوری کوشش کروں گا- آپ بھی بلا جھجک بندہ کی خامیوں پرمطلع کیجیئے گا- مطالعہ اور لکھنے کا سلسلہ بھی بدستور جاری رکھونگا- ہنوز کافی محنت مجھے درکار ہے-

0