چشم کو اشکبار کون کرے
زندگی زیر بار کون کرے
عشق میں دے فریب کوئی یہاں
بیوفا سے تب پیار کون کرے
مطلبی سارے جب بنے ہوئے ہوں
اپنی تب جاں نثار کون کرے
دوڑ ہی چل رہی ہے رفعتوں کی
پھر تو ضائع وقار کون کرے
قابو جذبات بھی اگر رہیں تو
ایسے دل کا شکار کون کرے
ہم کو منظور ہے سزا جو ملی
بندشوں میں فرار کون کرے
ہجر ناصؔر بڑا کٹھن سا لگے
صبر کی حد یہ پار کون کرے

0
19