تیز و تند ہواؤں کے رخ بھی پھیرنے ہونگے
طوفاں سے لڑنے کے حوصلے رکھنے ہونگے
راستے دئے طلاطم خیز سمندروں نے بھی
دلوں میں ایسے ایمانی جزبات بھرنے ہونگے
عشق دین ہی اصل سرمائہ ہے اس ملت کا
زیست میں یہ احساسات پھر جگانے ہونگے
ہو گیا رابطہ سہل مریخ کے سیارے سے بھی
انساں کی جدوجہد کے اب کیا کہنے ہونگے
بہت ہی محدود ہے بھونڈی سوج کی پرواز
شاہیں جیسی اڑان کے شوق دکھانے ہونگے
شہرۃ تھا عالم میں ناصر اس اعلی ظرفی کا
راستے سے کم مائیگی کے روڑے ہٹانے ہونگے

32