جب آتا ہے محبت کا دن
تڑپاتا ہے محبت کا دن
کچھ باتیں ہیں جو بھولیں کیسے
کچھ یادیں ہیں جو چھوڑیں کیسے
تحفہ اور تحائف لائیں
موسم جب بھی ملن کے آئیں
چاہت ہو روبرو ہونے کی
کوشش ہو خوبرو بننے کی
صدمہ ایک جدائی کا ہے
احساں صرف رہائی کا ہے
سارے لوگ نکالیں مطلب
بھاگیں وقت ضرورت صاحب
مل کر سب یہ عہد کرتے ہیں
محتاجوں کی مدد کرتے ہیں
ناصر بھی تو دعا کرتا ہے
جو بچھڑے ہیں ملا کرتا ہے

0
2
54
اس نظم کے ساتھ اسکی شرح بھی ہونی چاہیے


بحرِ ہندی/ متقارب اثرم مقبوض محذوف
فعلن فعْل فعولن فعلن

0