قطعہ

12 جنوری 2018

کبھی فاقوں سے گھبراکر قلم بیچا نہیں ہم نے
کسی قیمت پہ فکر و فن کا ہم سودا نہیں کرتے
کبھی فطرت کی خودداری اجازت ہی نہیں دیتی
خزاں کے ڈر سے فصلِ گل سے سمجھوتا نہیں کرتے
اشعار کی تقطیع
تبصرے