قطعہ

12 جنوری 2018

کیا ہے دردِ دل سے دل لگی زخموں سے کھیلے ہیں
کروڑوں بوند آنسو آنکھ کی تل کا نچوڑا ہے
ترے مکھڑے پہ یہ رعنائیاں یوں ہی نہیں آئیں
غزل تیرے لئے ہم نے لہو دل کا نچوڑا ہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے