تازہ ترین غزل احباب کی پیشِ خدمت

12 جنوری 2018

کوئی وحشت سی طاری تھی، سکوں سے رات عاری تھی
جو شب میں نےگزاری تھی بہت مشکل گزاری تھی
جو میری بے قراری تھی وہ ایسی ضربِ کاری تھی
کہ شب و روز جاری تھی، بہت مہلک بیماری تھی
میں جس میں ڈوب جاتا تھا وہ آنکھوں کی خماری تھی
میں جس سے زخم کھاتا تھا ترے جوبن کی آری تھی
تجھی پہ زیست ہاری تھی تجھی پہ جان واری تھی
مرا جب سب تمھارا تھا تو یہ جاں بھی تمھاری تھی
نہ میرا اُس کے بن، نہ اُس کا میرے بن گزارا تھا
میں اس کو جاں سے پیارا تھا وہ مجھ کو جاں سے پیاری تھی
اسے الزام کیا دیتا میں اپنا آپ مجرم ہوں
کہ میں نے اپنی خواہش اپنے ہی ہاتھوں سے ماری تھی
وہ کیا شیراز منظر تھا کہ خوشیاں اس کی جانب تھیں
مری جانب بسا بس سوگ تھا بس سوگواری تھی
اشعار کی تقطیع
تبصرے