غزل

12 جنوری 2018

تم مجھ سے نہ بدلنا اپنا کبھی تعلق
چاہت کی اس ڈگر میں تم ساتھ ساتھ چلنا
دلبر میں صرف تمہیں ہی سوچتا ہوں ہر پل
میرے ہر اک نذر میں تم ساتھ ساتھ چلنا
اپنی محبتیں میرے نام تم کروگے
اب شام اورسحر میں تم ساتھ ساتھ چلنا
تم نےہمیشہ رہنا میرا یوں سایہ بن کر
الفت کے اس نگر میں تم ساتھ ساتھ چلنا
تم توشکیل کا دل میری جاں نہ دکھانا
سب لوگوں کی نظر میں تم ساتھ ساتھ چلنا
اشعار کی تقطیع
تبصرے