غزل

12 جنوری 2018

وہ ہمارے عشق سے جب آشنا ہوتے گئے
ان پہ ہم قربان ، وہ ہم پر فدا ہوتے گئے
رفتہ رفتہ وہ ہمارے ہم نوا ہوتے گئے
"ہوتے ہوتے ہم زمانے سے جدا ہوتے گئے"
دوریاں بڑھنے لگیں اور وہ خفا ہوتے گئے
دیکھ کر حالت ہماری بے وفا ہوتے گئے
جھک گیا سر خود بخود سنگِ دیارِ یار پر
بیخودی بڑھتی گئی سجدے ادا ہوتے گئے
لوگ ہم کو یار کی تصویر بتلانے لگے
خود بخود ہی یار کا ہم آئینہ ہوتے گئے
عشق میں چین و سکوں دل کو نہ آیا تا حیات
درد و غم ، رنج و الم حد سے سوا ہوتے گئے
جو ہمارے عشق کی تھے ابتدا فیصل کبھی
وہ ہمارے عشق کی پھر انتہا ہوتے گئے
اشعار کی تقطیع
تبصرے