ایک غزل (بہ تصحیح) زمانہِ تخلیق: 1997

12 جنوری 2018

سبھی کھو کے سبھی پا لینے کا ہے نام محبّت
جُنوں کا کام یہی ہے کہ صبح و شام محبّت
صدائے عشق ہے غنچہ، کلی کا نام محبّت
کلی کے بھنورے کی بے کلی کا نام محبّت
گزر گیا تری تمنّا میں یہ تو سب ہی حدوں سے
کہ میرے دل مرے پاگل کو تُو تھام محبّت
کبھی ہجر شبوں میں جو لِٹائے آگ پہ ساقی
وہ آگ پھر جو بجھائے، ہے طرفہ جام محبّت
وہ تیغ حُسن ہے حاتمؔ جو سر اڑائے محبّ کا
بنی ہے سیفِ حُسن کے لئے نیام محبّت
ہے سمُندر اِک اِدھر تو اُدھر اِک آگ ہے جاناں
اشارے پہ یہ ترے ہی ہے لبِ بام محبّت
کچھ ایسے اَٹ سی گئی ہے تمھاری راہ میں رہ کے
کبھی چمکتا سا دن تھی یہ گرد فام محبّت
یہ جذبِ دل بھلا میرا ہو لفظوں میں بیاں کیسے؟
جی آپ سے نہیں ہے ہم کو تو عام محبّت
کہ دل کی وادیوں میں گونجتی ہے ہر صدا تیری
مبادا یہ مجھے کہہ دو "تری ہے خام محبّت"
ہے ہر کوئی خفا کیوں کر بے کار ہو گئے حاتمؔ
کہ جب بھی دیکھئے کرتے ہیں اک ہی کام محبّت
اشعار کی تقطیع
تبصرے