چین دل کا چرا گئے ہیں

7 دسمبر 2017

چین دل کا چرا گئے ہیں
میری نیندیں اڑا گئے ہیں
جن کو آنکھیں ترس رہی تھیں
دیکھو دیکھو وہ آ گئے ہیں
دور ان سے میں ہو نہ پاؤں
دل میں ایسے سما گئے ہیں
کیسے کیسے یہ سلسلے ہیں
بات دل کی چھپا گئے ہیں
قید تھے جو ہمارے دل میں
خواب میں بھی وہ آ گئے ہیں
رو رہا تھا غموں کو لے کر
پاس آ کر ہنسا گئے ہیں
ان کے گیسو پہ جو لکھے تھے
شعر میرے سنا گئے ہیں
اشعار کی تقطیع
تبصرے