جی چاہتا ہے

7 دسمبر 2017

کچھ کرنے کو جی چاہتا ہے
اب تو مرنے کو جی چاہتا ہے
ایسے روٹھی روٹھی سی ہو
تم سے لڑنے کو جی چاہتا ہے
دل کہتا ہے نکھرا ہی رہوں
پر بکھرنے کو جی چاہتا ہے
اب تو اس جھوٹے ناٹک میں
آہیں بھرنے کو جی چاہتا ہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے