الریاض

7 دسمبر 2017

جب کبھی چشمِ تصور میں مدینہ دیکھوں
"آنکھ کہتی ھے کہ سرکار کا روضہ دیکھوں"
ہے یہ حسرت کہ کبھی خواب میں ایسا دیکھوں
کم سے کم دور سے آقا کا ہیولا دیکھوں
دلِ مشتاق پریشان ہے یثرب آ کر
کئی گوشے ہیں مدینے کے میں کیاکیا دیکھوں
ذکر سرکار کا محفل میں اگر چھڑ جائے
دل یہ پہلو میں بہت تیز دھڑکتا دیکھوں
حوضِ کوثر پہ لئے ہاتھ میں پیالہ لے کر
کاش سرکار کو اکؔرم کو بلاتا دیکھوں
اشعار کی تقطیع
تبصرے