نعت رسول ﷺ

7 دسمبر 2017

سرورِ انبیا کی فرقت میں
رو رہا ہے یہ کون خلوت میں
غم نہیں قبر کے اندھیرے کا
ہیں یقیں آئیں گے وہ تربت میں
خلد مشتاق اس کی ہو جائے
جو مَرے مصطفیٰ کی الفت میں
ہم نے طیبہ میں دن گزارے ہیں
کیا ؟ مزا آئے ہم کو جنت میں
تیری مدحت کے وہ نہیں محتاج
سارا قرآں ہے ان کی مدحت میں
ہر جگہ ان کی حکمرانی ہے
کیا نہیں ان کے دستِ قدرت میں
پھر قیامت میں بھی قیامت تھی
آئے وہ جس گھڑی قیامت میں
فخر ہے مجھ کو اپنی قسمت پر
ہوں شفیع الوری کی امّت میں
خوف مجھ کو نہیں ذرا فیصل
بخشوائیں گے وہ قیامت میں
اشعار کی تقطیع
تبصرے