محبت سے بغاوت...

6 دسمبر 2017

باغی ہوں محبت کا محبت نہیں کرنی
اب مجھ کو محبت پہ عنایت نہیں کرنی
.
کمسن تھا چمن میں جو کھڑا تھا تری خاطر
پر اب یوں مجھے گل کی حفاظت نہیں کرنی
.
رستہ ہے سمندر کی اگر لہر کے نیچے
ساحل پہ کھڑے رہ کہ ریاضت نہیں کرنی
-
دنیا نے پہاڑوں سی مصیبت دھری آگے
کرنا ہے مگر صبر شکایت نہیں کرنی
.
مٹی کے بتوں سے تو وفائیں تھیں بہت پر
اب اور مجھے ان کی حمایت نہیں کرنی
.
مجرم ہوں ازل سے میں گنہگار ہوں مولا
راضی بہ رضا اب ہوں ، بغاوت نہیں کرنی
.
مانیؔ نے کیا طے جو کبھی پھر ملا موقع
غیروں کے خداؤں کی عبادت نہیں کرنی
اشعار کی تقطیع
تبصرے