سنبھلتا جا رہا ہوں

6 دسمبر 2017

بند مُٹّھی سے ابھی مَیں ریت مانند
اُس کے ہاتھوں سے پھسلتا جا رہا ہوں
وہ تو میرا ہو کے، گویا اجنبی ہے !
اب مَیں دھیرے سے سنبھلتا جا رہا ہوں !
جانتا ہوں! وہ نہیں ہے شمع، لیکن !
بن کے پروانہ مچلتا جا رہا ہوں !
جب یہ سوچا، سوچوں میں ہی پڑ گیا مَیں !
ذہن سے اُس کے نکلتا جا رہا ہوں ؟!
یہ بھی اچّھا ہے؛ کہ اچّھا مَیں نہیں ہوں
"اُس کا کہنا ہے" بگڑتا جا رہا ہوں !
منزلیں قدموں تلے ہی روند کر مَیں
سب سے یوں آگے کھسکتا جا رہا ہوں
آہ ! کس نے پھر دُعا دے دی ہے مجھ کو
مَیں جو فرقت میں نِکھرتا جا رہا ہوں
اپنا گھر کاشف! جلا کر مَیں خوشی سے
روشنی کی سمت اُچھلتا جا رہا ہوں
کاشف لاشاری
اشعار کی تقطیع
تبصرے