لٹ گئی مری دنیا ہو گیا میں افسانہ

6 دسمبر 2017

کل نہیں سنبھلتا تھا جن سے ایک پیمانہ
آج ان کے ہاتھوں میں ہے نظامِ میخانہ
تھا جو کل تلک میرا اب ہوا وہ بیگانہ
لٹ گئی مری دنیا بن گیا میں افسانہ
وقت کی بہاروں میں کھو کے اس قدر بھولے
جب خزاں کا دور آیا تب انھوں نے پہچانا
رہ پہ عشق کی چل کر ہم کہاں پہ آپہنچے
نہ ہے یاں کوئی اپنا نہ ہی کوئی بیگانہ
درمیانِ الفت یہ جو کھڑی ہیں دیواریں
توڑ کر انہیں اکدن جا ملے گا دیوانہ
آ تجھے چھپا لوں میں آشیانۂ دل میں
کون جانے کل کیا ہو آج دن ہے مستانہ
پیار سے جو مانگے تو کردوں آرزو پوری
عشق کا دھنی ہوں میں دے دوں دل کا نذرانہ
گِھر گیا بلاؤں میں آج ہر طرف سے میں
بجلیوں کی ذد میں ہے آج میرا کاشانہ
موت یہ مری مجھکو کس جگہ پہ لے آئی
ہر طرف ہے خاموشی ہر طرف ہے ویرانہ
زندگی سے بہتر ہے موت کا مزہ آسؔی
ظلم کی غلامی سے خوب تر ہے مرجانا
یہ ستم نہیں تو پھر اور کیا ہے اے آسؔی
ایک سمت شمّع ہے ایک سمت پروانہ
اشعار کی تقطیع
تبصرے