غزل

12 اکتوبر 2017

کر کے اسیرِ غم وہ دوا دے گیا مجھے
اچھا یہ دوستی کا صلہ دے گیا مجھے
یہ کون دردِ دل کی دوا دے گیا مجھے
تڑپوں گا عمر وہ یہ کیا دے گیا مجھے
داغِ غمِ فراق دکھاتا میں کس کو پھر
محبوب ہی جو میرا دغا دے گیا مجھے
تنہا وہ چھوڑ کر کے محبت کی راہ میں
کیا خوب عاشقی کا صلہ دے گیا مجھے
گزری اس انتظار میں فیصل کی زندگی
آئے گا وہ، جو عہدِ وفا دے گیا مجھے
اشعار کی تقطیع
تبصرے