در پہ آیا ہوں

11 اکتوبر 2017

میں اپنا داغِ دل دکھانے تیرے در پہ آیا ہوں
میں داستانِ غم سنانے تیرے در پہ آیا ہوں
گناہ جو ہوئے ہیں مجھ سے شرمسار ہوں بہت
گناہوں کی معافی کو ہی تیرے در پہ آیا ہوں
ربِّ رحیم ہے تُو اور جانِ جاں بھی میرا ہے
میں تو ثناء ہی کرنے تیری تیرے در پہ آیا ہوں
ہوں میں تو تیرا بندہ بخش دینا تیرا کام ہے
بہشت میں ہی گھر بنانے تیرے در پہ آیا ہوں
خدا کی راہ تو ہوئی ہے اس طرح کی ہی کٹھن
میں یہ ہی زخمِ تو دکھانے تیرے در پہ آیا ہوں
یا رب معاف کر دے اب ارشد کی سب خطاؤں کو
میں تجھ سے یہ مراد پانے تیرے در پہ آیا ہوں
اشعار کی تقطیع
تبصرے