غزل .اِدارت بن کے رہتی ہے

11 اکتوبر 2017

اِدارت بن کے رہتی ہے
وزارت بن کے رہتی ہے
بہت معصوم ہے لیکن
شرارت بن کے رہتی ہے
ارادے ہوں اگر پختہ
عمارت بن کے رہتی ہے
طبیعت جب مچل جائے
حرارت بن کے رہتی ہے
زباں پہ آرزو دل کی
جسارت بن کے رہتی ہے
مرے دل میں وہ آنکھوں کی
زیارت بن کے رہتی ہے
غلط فہمی ہمیشہ ہی
حقارت بن کے رہتی ہے
مدارِ کار ہو شاکر
مدارت بن کے رہتی ہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے