عکس

11 اکتوبر 2017

ظلم رہے گا کب تک ظالم
ظلم سے تیرے کانپ اٹھا عالم
خامہ چھین لیا ہے ہم سے
منہ پہ لگائے تالے ظالم
برپا یہاں ہے ہو کاعالم
لال ہوا ہے سارا جہلم
آن پڑا ہےعجب یہ عالم
ایک ہوئے ہیں چور معلم
شاہد تیرے ظلموں کا عالم
لیکن اب نا ہم سہیں ظالم
عام ہوئی ہے ذلف تراشی
گلوں کے طاق میں اشہر ظالم
اشعار کی تقطیع
تبصرے