مرا قاتل بھی میرے یار جیسا ہے

10 اکتوبر 2017

مرا قاتل بھی میرے یار جیسا ہے
یہاں تو ہر نفر تلوار جیسا ہے
ہمارے حاکموں کا حال تو دیکھو
ہے ان کو دل مگر دیوار جیسا ہے
اکڑتا کیوں ہے اس کرسی پہ تو ناداں
ترا عہدہ بھی تختِ دار جیسا ہے
بڑی حیرت سے میں تکتا رہا اس کو
جو ہے تو گل مگر گلزار جیسا ہے
زبانوں کے تصادم میں ہوا گایل
یہ میرا شعر جو بیمار جیسا ہے
کرے کس پر بھروسہ اب یہاں ہادی
جہاں قاتل لگے غمخوار جیسا ہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے