عکس

10 اکتوبر 2017

ظلم رہے گا کب تک ظالم
ظلم سے تیرے کانپ اٹھا عالم
خامہ چھین لیا ہے ہم سے
منہ پی لگائے تالئے ظالم
شاہد تیرے ظلموں کا عالم
لیکن اب نا ہم سہے ظالم
برپا یہاں ہے ہو کاعالم
لال ہوا ہے سارا جہلم
آن پڑا ہےعجب یہ عالم
ایک ہوئے ہیں چور معلم
عام ہوئی ہے زلف تراشی
گلوں کے طاق میں اشہر ظالم
اشعار کی تقطیع
تبصرے