غزلِ تازہ (تاریخِ تخلیق: 10 اکتوبر 2017)

10 اکتوبر 2017

زمانے میں نہ اب کوئی رہی توقیر کاغذ کی
نہیں لکھنا کہ ہو جائے نہ کچھ تحقیر کاغذ کی
حقیقت اپنے لفظوں کی تجھے معلوم ہے حاتمؔ
یہ سطریں کل کو ہو جائیں تری دل گیر کاغذ کی
تُو آہن گر ہے پر کچھ بھی تو آہن کا نہیں تیرا
ترا خنجر ہے سونے کا تری شمشیر کاغذ کی
کسی نے بھی کیا تصویر برہا کو سخن میں گر
چبھے ہے سینے میں میرے وہ نوکِ تیر کاغذ کی
اسی کو کہتے ہیں قوموں کا آخر ہے زوال آیا
جہاں حرمت تھی حرفوں کی ہے واں تشہیر کاغذ کی
سخن کی سلطنت سے عشق ہے حاتمؔ عجب تیرا
تجھے سپنوں میں بھی آئے نظر تصویر کاغذ کی
اشعار کی تقطیع
تبصرے