عشق اک بحِ بیکراں لوگوں غزل

12 اگست 2017

عشق اک بحرِ بیکراں لوگوں
زندگی اس میں بے اماں لوگوں
کس کو فرصت کہ حال آ پوچھے
اپنے ہم ہی ہیں رازداں لوگوں
نوچ ڈالے ہیں خواب آنکھوں سے
ایسے گذرے ہیں امتحاں لوگوں
بیت جاتا ہے دن جھمیلے میں
رات ہے ہم ہیں اور فغاں لوگوں
آؤ کچھ دیر کی لئے ہی سہی
دیکھنے اجڑا گلستاں لوگوں
کون عُظمیٰ کرے گا یاد ہمیں
کون اتنا ہے مہرباں لوگوں
اشعار کی تقطیع
تبصرے