غزل

12 اگست 2017

چھوڑ دے راستے وفاؤں کے
تو اثر میں ہے بددعاؤں کے
ہنستے ہنستے نکل گئے آنسو
ایسے بدلے ہیں رُخ ہواؤں کے
گردنیں تن کا ساتھ چھوڑ گئیں
ایسے خنجر چلے جفاؤں کے
زندگی ختم ہونے کو آئی
اور موسم وہی سزاؤں کے
تجھ کو ڈھونڈا ہے بھول کر خود کو
دیکھ چھالے ہمارے پاؤں کے
کون ہم سے بھلا نبھائے گا
ہم کہ عادی ہوئے خطاؤں کے
اب یہ عُظؔمی تمازتیں اور ہم
خواب تو خواب ہوئے چھاؤں کے
اشعار کی تقطیع
تبصرے