قطعہ

12 اگست 2017

تری وفا کے پھول آج تک کتاب میں ہیں
مرے خیال ابھی تک اسی عذاب میں ہیں
نہیں خبر کہ زمانے کے رنگ کیسے ہیں
ہمیں تو عمر ہوئی ہے ترے ہی خواب میں ہیں
اشعار کی تقطیع
تبصرے