غزل

12 اگست 2017

قوم کو ور غلانے سے کیا ہوگا
بات بے جا بڑھانے سے کیا ہوگا
وقت کا ہی تقاضا ہے علم وہنر
صرف پیسہ کمانے سے کیا ہوگا
ایک دن موت تو آنی ہے آئے گی
بزدلو! سر چھپانے سے کیا ہوگا
دیکھنا یہ ڈسیں گے تمہیں میری جاں
سانپ کو یوں کھلانے سے کیا ہوگا
زندگی موت سے ہارتی جائے گی
مجرموں کو بچانے سے کیا ہوگا
ذہن میں نفرتوں کا دھنواں آئے گا
ڈر کی صورت بنانے سے کیا ہوگا
تیمی ساگر عمل بھی تو ہو میری جاں
صرف لکھنے لکھانے سے کیا ہوگا
اشعار کی تقطیع
تبصرے