محبت کو چھپائیں گر مگر الفت نہیں چھپتی (غزل)

12 اگست 2017

محبت کو چھپائیں گر مگر الفت نہیں چھپتی
چھپائیں دل کے دکھ سکھ کو مگر صورت نہیں چھپتی۔
انھیں آنکھوں میں دل کا راز ہر اک کھل ہی جاتا ہے
مری آنکھیں ذرا دیکھو تری چاہت نہیں چھپتی۔
محرک کارواں ہیں ہم ، رہیں گے زندہ دنیا میں
کہ انساں مر بھی جاتا ہے مگر تربت نہیں چھپتی۔
فراغت چھن گئی ہے پھر بھی ہم ہیں زندہ دنیا میں
ستارے چاند چھپتے ہیں فلک پر رت نہیں چھپتی۔
یہ کیسا رابطہ ہے تیرے میرے دل کا اے احمد
تری حسرت نہیں چھپتی مری حسرت نہیں چھپتی۔
اعجاز احمد
اشعار کی تقطیع
تبصرے