غزل

11 اگست 2017

میں غیروں کی شہرت میں ہوں
یعنی کارِ مثبت میں ہوں
حاجت کیا ہے آئینے کی
اچھے یار کی صحبت میں ہوں
بھوک بڑھی، ہے آٹا گیلا
لگتا ہے اب غربت میں ہوں
یار ہیں میری تعریفوں میں
میں یارو کی غیبت میں ہوں
میں لیمو ہوں کھٹا لیکن
تیرے میٹھے شربت میں ہوں
تیری یادوں کا گھیرا ہے
خلوت میں بھی جلوت میں ہوں
تیرے پاس نہیں تو کیا غم
تیری ہر اک عادت میں ہوں
ساتھ ہوں غم گینوں کے، غم ہوں
شاد! تمہاری قربت میں ہوں
اشعار کی تقطیع
تبصرے