فضا کیسی اب چل پڑی دوستو

10 اگست 2017

فضا کیسی اب چل پڑی دوستو
کہ ظلمت کی آندھی رکی دوستو
بہت ہے پریشاں یہ انساں مگر
یہ غفلت کی بس ہے گھڑی دوستو
ہے جدت کا چرچا یہاں بھی بہت
کہاں سے وبا آ گئی دوستو
یہ مادہ پرستی کی ہے دوڑ جو
تباہی کی ہے اک کڑی دوستو
بدل جاتے ہیں لوگ اک پل میں بس
یہ کردار کی ہے کمی دوستو
جو شرفا کی صف میں تھے شامل کبھی
ہوئے اب ہیں رسوا وہی دوستو
ہو اسلاف کا گر ہنر پھر عطا
یہ ہےکامیابی بڑی دوستو
اشعار کی تقطیع
تبصرے