غزل

9 اگست 2017

مقتل میں اک جشن منانے والا ہوں
اپنے سر کو آپ اُڑانے والا ہوں
آئے ہیں کچھ لوگ جلانے گھر میرا
میں بھی شہر کو آگ لگانے والا ہوں
غر بت کی دولت کو اپنے بچوں میں
دے کر اپنی جان چھڑانے والا ہوں
تھوک رہا ہوں خون میں اب آسانی سے
منظر اب گلرنگ بنا نے وا لے ہوں
پھوٹ رہی ہے دیوں سے کتنی تاریکی
دیے بُجھا کرطاق جلانے والا ہوں
کون یہ دیکھے! روٹی ہے یا انگارے
میں تو اپنی بھوک مٹانے والا ہوں
اشعار کی تقطیع
تبصرے