ہمیں اب یہی آسرا کافی ہے(غزل)

9 اگست 2017

ہمیں اب یہی آسرا کافی ہے
ہمارے لیے تو خدا کافی ہے۔
برائےگرفتار الفت میں تو
اشارہ ہے کافی ، ادا کافی ہے
شہیدے محبت کو حاصل بہت
وہی داستاں کربلا کافی ہے۔
ہے درکار منزل کو پانا مجھے
مری ماں کی اس پر دعا کافی ہے
گدا زانہ دل جو بھی رکھتا ہے تو
اسی کے لیے اک صدا کافی ہے۔
جو کر دے تری خوبیوں کو فنا
وہ کردار تیرا برا کافی ہے
ابھی آئو تڑ پائو نا مجھ کو تم
ملی دوری کی جو سزا کافی ہے۔
مزا بندگی عشق میں اور ہے
مگر ہم ہیں سمجھے قضا کافی ہے۔
مریضے محبت کو اے چارہ گر
اسی کے دہر کی ہوا کافی ہے۔
مرے دل کے ویراں چمن کے لیے
ترے آنے کی اک صبا کافی ہے۔
مرا دل گیا میرا ارماں گیا
مرے پاس اب جو رہا کافی ہے۔
چلو ترک الفت کریں جلد ہی
جو الفت میں دکھ سکھ ملا کافی ہے۔
بہت دکھ ملے تیرے در پر مجھے
ترے در پہ احمد اٹھا کافی ہے۔
اعجاز احمد
اشعار کی تقطیع
تبصرے