ادھوری اک کہانی ، لکھ رہا ہوں

9 اگست 2017

ادھوری اک کہانی ، لکھ رہا ہوں
میں چاہت کی نشانی، لکھ رہا ہوں
نئی کاپی کے اک تازہ ورق پر
میں باتیں کچھ پرانی، لکھ رہا ہوں
تری الفت سے جو تحفے میں پائیں
میں یادیں وہ سہانی ، لکھ رہا ہوں
مرے ہمدم !! لے تیرے نام اپنی
یہ ساری زندگانی ، لکھ رہا ہوں
ذکی اب لفظ بھی دھندلا گئے ہیں
ہے اشکوں کی روانی ، لکھ رہا ہوں
اشعار کی تقطیع
تبصرے