شبِ سیاہ !! تیرے پار اک سویرا ہے

9 اگست 2017

نہیں ہے مستقل یہ جو ترا اندھیرا ہے
شبِ سیاہ !! تیرے پار اک سویرا ہے
نہ جانے کس گھڑی یہ ختم ہونے والا ہے
بدن کی اوٹ میں جو روح کا بسیرا ہے
غموں کی فوج میرے دل میں آن پہنچی ہے
اداسیوں نے اِس کو چار سُو سے گھیرا ہے
تمام شہر سج گیا ہے برگِ ریزاں سے
ہوا نے زرد پتیوں کو یوں بکھیرا ہے
ذکی جہاں پہ اُس نے اک نگاہ ڈالی تھی
سنا ہے اب وہاں پہ مے کشوں کا ڈیرہ ہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے