غزل

8 اگست 2017

رات و دن ہنگامہ کرتا رہتا ہے
دل نہ جانے کس سے لڑتا رہتا ہے
ملتے ہی جھٹ بولے مجھ سے ' آئی لو یو'
عشق میں کیسا سودا کرتا رہتا ہے
اس سے تو میرا بھی بھروسہ ٹوٹ گیا
کس پہ دل ہرجائی مرتا رہتا ہے
پہلے تھا مسجد میں اب مے خانے میں
ایماں سچ مچ گھٹتا بڑھتا رہتا ہے
آنکھوں سے آنکھوں کا رشتہ کچھ بھی ہو
پگلا دل ہچ کولے کھاتا رہتا ہے
اپنے جھوٹ پہ وہ ایسے اڑ جائے گا
جیسے وہ تو سچ ہی کہتا رہتا ہے
نینوں کے دریا میں گرنا مرنا ہے
پھر بھی ساگر گرتا مرتا رہتا ہے
اشعار کی تقطیع
تبصرے