غزل

17 جولائی 2017

بندہ جناب فن میں تو کامل نہیں رہا
جس دل پہ ناز تھا مجھے وہ دل نہیں رہا
درپیش اب ہے بپھری ہوئی موجِ زندگی
کشتی نہیں رہی کوئی ساحل نہیں رہا
کرتا رہا ہوں بے دلی سے کاروبارِ عشق
افسوس دل کسی پہ بھی مائل نہیں رہا
اُلجھا ہوا ہوں لاکھ غمِ روزگار میں
لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا
اُس نے بھی ترک کردی ہے عادت جو جور کی
میں بھی اب التفات کا قائل نہیں رہا
ہاں راہ بدلنے کی اجازت ہے اب تجھے
ہاں میں اب اعتبار کے قابل نہیں رہا
ہلکان کیوں ہوں سوچ کے اب اُس کے باب میں
جس آرزو کا اب کوئی حاصل نہیں رہا
اشعار کی تقطیع
تبصرے