غزل

17 جولائی 2017

بے خودی جب ہمسفر ہونے لگی
ضوفشاں ہر رہگزر ہونے لگی
آنکھ اُن کی جب مدھر ہونے لگی
دل کی دنیا در بدر ہونے لگی
جس قدر میری نظر ہونے لگی
خوب سے وہ خوب تر ہونے لگی
حیف آتا ہے دلِ ناکام پر
ہر تمنّا بے اثر ہونے لگی
نام آیا، درد سے دل پھٹ گیا
یاد آئی، آنکھ تر ہونے لگی
میکدہ سارا اُلٹ د ے جام میں
تَشنگی اب اِس قدر ہونے لگی
وقت یہ آیا ہے اپنے درمیاں
گفتگو بھی مُختصر ہونے لگی
ہم تجھے کہنے کو اِتنا آئے ہیں
زندگی اچّھی بسر ہونے لگی
دیکھ میری جراتِ بیدار کو
زندگی خود چارہ گر ہونے لگی
ہچکیاں آتیں ہیں مجھ کو اِس قدر
لگتا ہے اُن کو خبر ہونے لگی
ویسے ویسے دل کو آیا ہے قرار
جیسے جیسے وہ نظر ہونے لگی
چاند بھی بیتاب ڈوبا اُٹھ میاں!
اُٹھ میاں! اب تو سحر ہونے لگی
اشعار کی تقطیع
تبصرے