تازہ غزل کے چند اشعار

17 جولائی 2017

اندھیرے رات سے جس دم کنارا کرتے ہیں
انہیں چراغ کہیں سے اشارہ کرتے ہیں
ہمارا ملنا، نہ ملنا تو اب نصیب سے ہے
وہ کہہ رہا تھا چلو ، استخارہ کرتے ہیں
تمھارے واسطے جیون بچا کے رکھا ہے
تمھارے نام یہ سارے کا سارا کرتے ہیں
ہمیں یہ آس ہے جو خوش گمان رکھتی ہے
ہمیں وہ خواب ہیں جو پارہ پارہ کرتے ہیں
بس ایک یاد ہے دل میں مدام چلتی ہوئی
بس ایک عشق ہے جس پر گزارا کرتے ہیں
اشعار کی تقطیع
تبصرے