غزل

16 جولائی 2017

رنگ او بو کو پیرہن کا استعارہ کی جئے
لطف اگر اک بار آئے تو دوبارہ کی جئے
دیکھئے بدنامیوں کا خوف ہے مجھ کو بہت
بام پر آ کے نہ مجھ کو یوں اشارہ کی جئے
وصل اے سحر اچھا رہے گا یا مجھےشام اے فراق
آئیے اس بات پر اب استخارہ کی جئیے
عشق کی سب داستانیں مٹ گئیں مدت ہوئی
اک نیا عشاق پر جاری شمارہ کی جئے
اپنی قسمت کا ستارہ کی جئے خود ہی تلاش
اور پھر تیار اپنا گوشوارہ کی جئے
اشعار کی تقطیع
تبصرے