صدائے دل

16 جولائی 2017

اے ربِّ جہاں اپنے تُو بندوں کی دعا سُن لے
یہ درد میں ڈوبی ہے ہماری تُو صدا سُن لے
دیتی ہے سزا دنیا تجھے چاہنے کی ہم کو
شکوہ بھی ذرا سا تُو اب اہلِ وفا سُن لے
پاس آتے ہیں تیرے ہی تو لوٹ کے اے ربِّ
ہم تو نہیں ہیں یا رب تیرے بے وفا سُن لے
تیری ہی محبت میں تو چھوڑا ہے دنیا کو
اب اپنے لئے جینا تو بس ہے سزا سُن لے
پانی کی طرح بہتا ہے مسلم کا لہو تو اب
ہے ظلم کی یہ تو حد اے میرے خدا سُن لے
پرواز کی طاقت دے اپنے تُو عقابوں کو
پاس آئے ہیں تیرے ہم بن کے تو گدا سُن لے
یہ جانتا ہے ارشد نہیں اس میں کوئی بھی فن
کرتا ہے مگر تجھ پہ جان اپنی فدا سُن لے
اشعار کی تقطیع
تبصرے