غزل

16 جولائی 2017

بُتوں کو خدا سے مُقدَّم ہے جانا
نہ دیں ہاتھ آیا، نہ دنیا ٹھکانہ
جو گزری سو گزری، اُسے بُھول جانا
میاں کیا عَبَث اپنے جی کو جلانا
نگاہوں میں بس کر وہ دل میں سمانا
وہ دل میں سما کر یونہی رُوٹھ جانا
رہا خوب اُن کو یہ حاصل بہانہ
ہمیشہ تھا آنے میں حائل زمانہ
سراسر ہے آزار دل کا لگانا
تو اِک کام کرنا، مجھے بُھول جانا
سمجھ اُن کو آیا ہے اب جا کے جینا
وہ سمجھے تھے آساں غموں کا اُٹھانا
نرالی ہے شانِ رحیمی بھی اُن کی
ہے افضل گھرانوں میں اُن کا گھرانہ
سِسکتے ہوئے میں نے دیکھے وہ موتی
تھا جن کی اداؤں کا عاشق زمانہ
بُلا کر مجھے باپ نے ہے یہ پوچھا
میاں کب کرو گے شروع تم کمانا
وہ ایواں میں بیٹھے ہوئے سب لُٹیرے
ہیں مصروف کھانے میں قومی خزانہ
لیے دل میں حسرت وہ بیتاب گزرا
ہوا ہے مسافر عدم کو روانہ
اشعار کی تقطیع
تبصرے